اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 99 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 99

ازواج النبی 99 حضرت حفصہ کے بعد طبعاً حضرت عمرؓ کو اپنی 21 سالہ اس جواں سال بیٹی کے رشتہ کی فکر دامن گیر ہوئی، انہوں نے اپنے قریب ترین دوستوں میں یہ رشتہ طے کرنا چاہا۔پہلے حضرت عثمان کو حضرت حفصہ کا رشتہ پیش کیا۔انہوں نے جوابا کہا کہ فی الحال وہ دوسری شادی کا ارادہ نہیں رکھتے۔حضرت عمرؓ کی فکر اپنی جگہ قائم رہی، چنانچہ انہوں نے حضرت ابو بکر کو یہ رشتہ پیش کیا۔مگر وہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا کچھ دن گزرے تو آنحضرت علیم کی طرف سے حضرت حفصہ کے رشتہ کا پیغام آیا جو حضرت عمرؓ نے بڑی خوشی سے قبول کر لیا۔5 رض اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد جب حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ سے ملے تو ان سے کہا کہ مجھے احساس ہے کہ جب آپ نے حفصہ کے رشتہ کا ذکر مجھ سے کیا تو میں خاموش رہا تھا۔شاید اس خاموشی سے آپ کو کچھ رنج ہوا ہو۔حضرت عمر صاف گو انسان تھے۔فرمانے لگے واقعی مجھے بھی اس بات سے صدمہ پہنچا تھا کیونکہ میں نے خاص تعلق محبت سے آپ کو اس رشتہ کی پیش کش کی اور آپ نے کوئی جواب ہی نہ دیا۔حضرت ابو بکر نے وضاحت فرمائی کہ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ کی طرف سے رشتہ کی تجویز سے کچھ عرصہ قبل آنحضرت لالی کنم بطور مشورہ حفصہ کے رشتے کا ذکر اپنی ذات کے لئے مجھ سے فرما چکے تھے۔اس لئے میں خاموش رہا کیونکہ میں آنحضرت ام کی راز دارانہ مشاورت کا پیشگی ذکر آپ سے نہیں کر سکتا تھا۔یہاں تک کہ خود حضور کی طرف سے یہ مبارک پیغام آپ کو پہنچ جائے۔ہاں اگر حضور لیل لی کہ ہم نے اس رشتہ کا ذکر اپنے لئے نہ کیا ہوتا تو میں آپ کی خواہش کے احترام میں ضرور یہ رشتہ قبول کر لیتا۔حضرت عمر نے آنحضرت سلیم کی خدمت میں بھی یہ عرض کر دیا تھا کہ یارسول اللہ ! میں نے اپنے دو قریبی ساتھیوں کے سامنے حفصہ کا رشتہ پیش کیا مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔آنحضرت علی کریم نے بھی ایسا پیارا جواب دیا جس سے ان کی تسلی ہو گئی۔آپ نے فرمایا کہ اے عمر ! اللہ تعالی آپ کی بیٹی کے رشتے کا جو انتظام کریگا وہ عثمان سے بہتر ہے اور عثمان کو جو رشتہ عطا کرے گا وہ آپ کی بیٹی سے بہتر ہے۔اور پھر یہی ہوا کہ آنحضرت علی ایم کے ساتھ حضرت حفصہ بنت عمر کا عقد ہوا اور حضرت عثمان کی شادی آنحضرت علی کیم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم سے ہو گئی۔یہ واقعہ حضرت عثمان کی پہلی بیوی حضرت رقیہ بنت رسول اللہ کی وفات کے بعد کا ہے۔جب ایک طرف وہ اپنی بیوی حضرت رقیہؓ کی وفات کے صدمے سے نڈھال تھے تو تم