اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 49 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 49

ازواج النبی 49 حضرت سودہ رض چنانچہ یہ رشتہ طے ہو گیا اور حضرت سودہ مکی دور میں ہی آنحضرت کے گھر میں آگئیں۔رسول اللہ لی لی الیکم نے آپ کا حق مہر چار سو دینار مقرر فرمایا تھا۔حضرت سودہ کے مشرک بھائی عبد بن زمعہ کو جب یہ خبر ملی تو اس نے ماتم کرتے ہوئے اپنے سر میں مٹی ڈالی۔بعد میں جب وہ مسلمان ہوئے تو کہا کرتے تھے کہ " میں بھی کیسا احمق تھا کہ اپنی بہن کے ساتھ آنحضرت امیم کی شادی پر ماتم کرتے ہوئے اپنے سر میں خاک ڈالتا مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ اتنی بڑی سعادت ہے" حضرت سودہ کی رؤیا حضرت سودہ کی اس سعادت میں یقیناً الی مصلحت بھی شامل تھی اور ان کی بعض رؤیاء بھی اس طرف اشارہ کرتی تھیں ، جن سے اس رشتہ کے منجانب اللہ ہونے کا پتہ چلتا ہے نیز حضرت سودہ کی نیکی و تقویٰ اور ان کے تعلق باللہ کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔حضرت سودہ کا بیان ہے کہ میں نے آنحضرت علیم کے ساتھ نکاح سے بہت پہلے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت لیلی می کنم تشریف لائے ہیں اور آپ نے اپنا پاؤں میری گردن پر رکھا ہے۔میں نے اپنے خاوند کو یہ رؤیا سنائی۔وہ کہنے لگے کہ "اگر تمہاری خواب سچی ہے تو میری وفات کے بعد تم آنحضرت لیلی ریم کے عقد میں آؤ گی " حضرت سودہ فرماتی تھیں کہ اگلے روز میں نے یہ خواب دیکھی کہ " میں لیٹی ہوئی ہوں اور چاند میرے اوپر آگرا ہے۔میں نے فکر مندی سے اپنے شوہر حضرت سکران) کو یہ خواب بھی سنائی انہوں نے دوبارہ یہی تعبیر کی کہ جلد ان کی وفات ہو جائے گی اور اس کے بعد آنحضرت علی علی کی کمی سے میر ا عقد ہو گا۔روایت ہے کہ اسی روز سے حضرت سکران بیمار پڑ گئے اور پھر جانبر نہ ہو سکے۔اسکے کچھ عرصہ بعد ہی حضرت سودہ رسول اللہ علیم کے حرم میں شامل ہو کر ام المومنین بن گئیں۔حضرت ابن عباس بیان کرتے تھے کہ رسول الله علی کریم نے جب حضرت سودہ کو شادی کا پیغام بھجوایا تو ان کے پانچ چھ بچے تھے انہوں نے جوابا عرض کیا کہ "مجھے نکاح میں کوئی روک نہیں۔کیوں کہ آپ مجھے سب دنیا سے زیادہ عزیز ہیں مگر مجھے آپ کا احترام پیش نظر ہے کہ کہیں میرے بچے صبح و شام اپنی چیخ و پکار سے آپ کو پریشان ہی نہ کر رہے ہوں۔رسول اللہ صلی علی یہ تم نے فرمایا کیا اس کے علاوہ کوئی اور بات تو اس امر (شادی) 8