اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page vi of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page vi

اہل بیت رسول اہل بیت کا مقام پیش لفظ سورۂ احزاب میں ازواج مطہرات کو اللہ اور اس کے رسول کو مقدم کرنے کے بعد ان کی کامل اطاعت اور اعمال صالحہ پر دوام اختیار کرنے کی صورت میں دوہرے اجر کا وعدہ فرما کر انہیں ان کا مقام یاد کروایا ہے کہ ”وہ عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں اگر وہ تقویٰ اختیار کریں۔پس انہیں اپنی آواز میں بھی لوچ پیدا کر کے بات نہ کرنی چاہیے تاکہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ کوئی بُرا خیال دل میں نہ لا سکے۔“ (الاحزاب : 33،32) پھر ان ازواج کو ”اہل بیت“ کے لقب سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ”اور (اے ازواج النبیؐ) اپنے گھروں میں ہی رہا کرو اور گزری ہوئی جاہلیت کے سنگھار جیسے سنگھار کی نمائش نہ کیا کر و اور نماز کو قائم کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔اے اہل بیت ! یقینا اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی آلائش دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح پاک کر دے۔اور یادر کھو اللہ کی آیات اور حکمت کو جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے۔یقینا اللہ بہت باریک بین (اور ) باخبر ہے۔“ (الاحزاب : 35،34) آنحضور علی ایم کی ازواج کو اہل بیت کا خطاب دے کر اسی سورۃ احزاب میں انہیں امت کی مائیں قرار دیا۔(الاحزاب : 7 ) اور ان کے احترام کے لحاظ سے یہ ہدایت فرمائی کہ نبی کی ازواج سے رسول اللہ ایم کی وفات کے بعد نکاح جائز نہیں۔(الاحزاب : 54) ازواج کے تقاضہ ادب کے ماتحت پر دے کے خصوصی آداب کا ذکر کیا۔انہیں گھروں میں رہنے کی ہدایت کی، نبی کے گھر بلا اجازت داخل ہونے سے منع کیا اور ان سے ضرورت کی چیز بھی پردہ کے پیچھے سے مانگنے کی ہدایت فرمائی۔( الاحزاب : 54،34) رسول الله علیم کی ازواج نے ان ارشادات پر عمل کر کے دین ودنیا میں اپنا عظیم مقام پیدا کر لیا۔ازواج کا مختصر تعارف رسول الله علی تعلیم کے عقد میں آنیوالی کل تیرہ ازواج تھیں۔ان میں سے تین غیر عربی تھیں جو بنی اسرائیل میں سے تھیں۔حضرت صفیہ بنت حیسی یہودی قبیلہ بنو نضیر سے، حضرت ریحانہ یہودی قبیلہ بنو قریظہ سے تھیں اور مصر کی حضرت ماریہ قبطیہ عیسائی تھیں۔باقی دس ازواج کا تعلق عرب قبائل سے تھا۔جن میں سے چھ قبیلہ