اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 32 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 32

ازواج النبی 32 حضرت خدیجہ رض 12 نکاح کے موقع پر رسول اللہ سلیم کے چا ابو طالب نے گفتگو فرماتے ہوئے اپنے اولاد ابراہیم اور متولی بیت اللہ ہونے کی فضیلت کا ذکر کیا اور کہا کہ میرے اس بھتیجے محمد بن عبد اللہ کا موازنہ کسی بھی شخص سے کیا جائے تو اس کا پلڑا یقیناً بھاری ہو گا۔ہاں اگر یہ مال میں کم ہے تو وہ ایک آنی جانی چیز ہے۔اور محمد وہ ہے جس کی قرابت سے تم سب واقف ہو۔0 جس کے بعد حضرت خدیجہ کے چازاد ورقہ بن نوفل نے اپنے خطاب میں ابو طالب کی بیان کردہ خاندانی شرافت کی تائید کرتے ہوئے حضرت خدیجہ کی طرف سے یہ نکاح چار سو دینار پر قبول کیا۔ابو طالب نے کہا کہ مناسب ہو گا کہ حضرت خدیجہ کے چا بھی اس کی تائید کریں۔اس پر ان کے چچا عمر و بن اسد نے اعلان کیا کہ اے سرداران قریش ! میں نے محمدملی یا یتیم کا نکاح خدیجہ سے کر دیا ہے۔0 روایات میں آنحضرت علی سلیم کا حق مہر دو طرح مذکور ہے یعنی 20 اونٹ کے ساتھ ساڑھے بارہ اوقیہ بھی۔اس دو قسم کے حق مہر کی توجیہ یہ کی گئی ہے کہ اس موقع پر ابو طالب نے بھی آنحضرت می کنیم کی طرف سے ایک حصہ حق مہر اپنے مال سے ادا کرنا قبول کیا تھا۔پھر آنحضرت طلی یا تم نے اپنی طرف سے اس سے زائد بھی ادا کیا اس طرح ہیں اونٹ اور ساڑھے بارہ اوقیہ دونوں حق مہر ادا ہوئے۔یہ شادی صرف آنحضرت علیم کے لئے ہی موجب تسلی وراحت نہ ہوئی بلکہ آپ کے چچا ابو طالب کے لئے بہت زیادہ باعث مسرت ہوئی، جس کا اظہار انہوں نے اس موقع پر ان الفاظ میں کیا " تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے ہم سے کرب اور پریشانیاں دور کر لیں " 0 حضرت خدیجہ اور ان کی والدہ فاطمہ اپنی جگہ بہت خوش تھے۔انہوں نے رسول اللہ صلی علی کریم کو مشورہ دیا کہ اپنے چچا سے کہیں کہ خوشی کے اس موقع پر کچھ اونٹ ذبح کروا کے لوگوں کو کھاناکھلائیں۔حضرت خدیجہ نے اس روز اپنے گھر کی لونڈیوں کو حکم دیا کہ دف و غیرہ بجا کر رونق کا کچھ سامان کریں اور رسول اللہ سے عرض کیا کہ آپ دو پہر یہیں آرام فرمائیں آنحضرت علی یا تم نے یہ تجویز پسند کرتے ہوئے لوگوں کو کھانا کھلایا اور حضرت خدیجہ کے گھر قیلولہ فرمایا۔0 ظاہری فرق اور عمروں کے تفاوت کے باوجود یہ شادی بہت کامیاب ثابت ہوئی کیونکہ شادی کا مطلب محض جسمانی ضروریات کو پورا کرنا ہی نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ کوئی عام شادی تھی بلکہ جیسا کہ بعد کے حالات نے ظاہر کیا اس رشتہ میں الہی تقدیر کار فرما تھی۔جس کا قابل ذکر پہلو یہ تھا کہ جو عظیم ذمہ داری آنحضرت پر 16 15