اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 30 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 30

ازواج النبی 30 حضرت خدیجہ رض والدین اور بھائی بہن سب لوگوں سے زیادہ معزز ہیں۔کیونکہ میرے باپ رسول اللہ صلی ی تیم والدہ حضرت خدیجہ بھائی قاسم بن محمد اور بہن فاطمہ بنت محمد ہیں۔مذہب 3 اسلام سے قبل حضرت خدیجہ کے مذہب کے بارہ میں کوئی واضح روایت تو موجود نہیں تاہم ان کا طور طریق، نیک سیرت اور پاکیزگی ظاہر کرتی ہے کہ نہ تو بتوں کی طرف ان کا کوئی میلان تھا اور نہ ہی وہ اپنے چچازاد ورقہ بن نوفل کی طرح کسی اور مذہب عیسائیت وغیرہ کی طرف رجحان رکھتی تھیں۔بلکہ مکہ کے گنتی کے چند نیک اور مؤخد لوگوں کی طرح دین ابراہیمی سے نسبت رکھتی تھیں۔ان کے آباؤ اجداد بھی اسی دین سے نسبت باعث فخر جانتے تھے۔ورقہ بن نوفل بھی بت پرستی کو نا پسند کرتے تھے ، انہوں نے تحقیق حق کی خاطر مکہ کے ایک اور مؤحد زید بن عمرو بن نفیل کے ساتھ شام کا سفر بھی کیا۔یہود و نصاری کے بارہ میں معلومات حاصل کر نے کے بعد زید تو دین ابراہیمی پر قائم رہے جبکہ ورقہ نے عیسائیت قبول کر لی تھی۔0 رسول اللہ صلی یا تم سے شادی حضرت خدیجہ کے والد جنگ فجار میں مارے گئے تھے۔وہ اپنی خاندانی جائیداد کی تنہا مالک تھیں۔ایک کے بعد اپنے دوسرے شوہر کی وفات کے بعد گھر یلو انتظام خود سنبھال کر وہ ہر لحاظ سے بااختیار بھی تھیں۔قریش میں نہایت معزز اور مالدار خاتون ہونے کے ساتھ وہ نہایت عفیف، پاک دامن اور پارسا مشہور تھیں اسی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں ان کا لقب "طاہرہ " پڑ گیا تھا۔وہ قریش کے شام جانے والے قافلے میں اپنا مال بغرض تجارت بھجوایا کرتی تھیں اس کے لئے انہیں کسی دیانتدار شخص کی ضرورت تھی۔حضرت خدیجہ نے رسول اللہ علیم کی صداقت و امانت کا شہرہ بھی سن رکھا تھا۔انہوں نے ابو طالب کی تحریک پر آنحضرت لیلی ہم کو پیغام بھجوایا کہ اگر آپ میرا امال تجارت شام لے کر جائیں تو دوسرے لوگوں کی نسبت آپ کا معاوضہ دوگنا ہو گا یعنی دواونٹ کی بجائے چار اونٹ۔ابو طالب نے بھی اس موقع پر آنحضرت ٹیم کو اس کام کے لئے آمادہ کرنے کی تحریک کی اور کہا کہ اللہ تعالی نے آپ کے لئے اس رزق کا خود بند و بست فرمایا ہے۔5 66 چنانچہ آنحضرت الی ال ایام حضرت خدیجہ کا مال تجارت شام لے جانے کے لئے تیار ہو گئے۔حضرت خدیجہ نے اپنے ایک غلام میسرہ کو بھی آپ کے ہمراہ بھجوایا۔رسول کریم ی ی ی یمن کی صداقت و دیانت کی بدولت ملک رض