اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 323 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 323

اولاد النبی 323 حضرت امام حسین کی اجازت چاہی۔آپ نے اسے اجازت دے کر حضرت ام سلمہ سے فرمایا کہ دروازے پر دھیان رکھنا کوئی اندر نہ آئے۔اتنے میں حضرت حسین اچھلتے کودتے اندر چلے گئے اور رسول اللہ میں علم کے کندھے پر سوار ہو گئے۔فرشتہ نے پوچھا یہ بچہ آپ کو بہت پیارا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا کہ آپ کی امت اسے شہید کر دے گی اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کی قتل گاہ بھی آپ کو دکھا سکتا ہوں۔پھر اس نے کچھ سرخ مٹی اپنے ہاتھ میں لے کر دکھائی۔حضرت ام سلمہ نے وہ مٹی لے کر اپنے کپڑے کے پتو میں باندھ لی۔راوی کہتے ہیں کہ ہم سنتے تھے کہ یہ شہادت کربلاء میں ہو گی۔8 یہی روایت خود حضرت ام سلمہ سے اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ صلی فیلم آرام فرمارہے تھے اور میں دروازہ پر نگرانی کر رہی تھی کہ دریں اثناء حضرت حسین رینگتے ہوئے رسول اللہ علیم کے پاس پہنچ گئے۔آپ نے انہیں اپنے اوپر بٹھا لیا۔آپ فرماتی ہیں پھر میں نے رسول اللہ میم کی گریہ کی آواز سنی تو آپ کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا یارسول اللہ علی یا تم مجھے پتہ نہیں لگا اور حسین اندر چلے آئے۔آپ نے فرمایا ابھی میرے پاس جبرائیل آئے تو حسین میرے پیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ آپ کو بہت پیارا ہے؟ میں نے کہاہاں۔جبرائیل نے کہا کہ آپ کی امت اسے شہید کر دے گی۔ایک اور روایت حضرت ام الفضل بنت حارث سے ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ لی می کنیم کی خدمت میں عرض کیا کہ آج رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھی ہے ، آپ نے فرمایا وہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ وہ بڑی خوفناک خواب ہے۔آپ نے فرمایا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا میری گود میں آگرا ہے۔رسول اللہ لی ہم نے فرمایا آپ نے یہ تو اچھی خواب ہے۔فاطمہ کے ہاں ایک لڑکا ہو گا اور وہ آپ کی گود میں آئے گا۔چنانچہ حضرت فاطمہ کے ہاں حسین پیدا ہوئے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا۔پھر ایک دن میں رسول اللہ لی تعلیم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حضرت حسین کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔پھر اچانک جو میری نظر پڑی تو کیا دیکھتی ہوں کہ رسول اللہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔میں نے کہا اے اللہ کے نبی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا کہ جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور انہوں مجھے خبر دی کہ میری امت میرے اس بیٹے کو شہید کر دے گی۔میں نے عرض کیا کہ کیا اس بیٹے کو؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اور جبریل میرے لیے اس سر زمین کی سرخ مٹی بھی لائے ہیں۔9 جیسا کہ ظاہر ہے ان روایات میں سے پہلی امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں دوسری ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اور تیسری امام حاکم نے مستدرک میں بیان کی ہے۔ہر چند کہ روایت کے لحاظ سے ابن عساکر کی