اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 290
اولاد النبی 290 حضرت فاطمہ بنت محمد اللہ علیم کا فرمان ہے کہ ہم انبیاء کا ورثہ نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے ( بخاری میں ہی اس فقرہ کی وضاحت موجود ہے کہ "ہم انبیاء" کی جماعت سے مراد یہاں رسول اللہ علی مہم کا اپنا وجود ہے، دیگر انبیاء اس میں شامل نہیں) حضرت ابو بکرؓ نے رسول اللہ کے اس ارشاد کی تعمیل میں کہا کہ رسول اللہ علیم نے جس طرح ان اموال میں تصرف فرمایا میں اس میں سے آپ کے کسی عمل کو نہیں چھوڑ سکتا۔میں ڈرتا ہوں کہ اگر آنحضور کے طریقہ عمل سے کچھ بھی چھوڑ دکر میں گمراہ نہ ہو جاؤں۔39 بخاری کی دوسری روایت میں مزید وضاحت ہے کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ میں نے رسول الله طی یکم سے سنا ہے کہ ہم لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے البتہ آل محمد اپنی گزر بسر کے لیے اس میں سے لے سکتے ہیں، رہا حسن سلوک تو خدا کی قسم ! میں رسول اکرم لی ایم کے رشتہ داروں سے سلوک کرنے کو اپنے رشتہ داروں سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔خلیفہ بر حق حضرت ابو بکر کے اس نہایت عادلانہ اور حق و حکمت پر مشتمل فیصلہ پر بظاہر کوئی ناراضگی والی بات نہیں تھی۔لیکن بفرض محال کسی غلط فہمی کے نتیجہ میں اور تقاضہ بشری سے حضرت فاطمہ کو کوئی وقتی رنجش پیدا بھی ہوئی تو وفات سے قبل وہ دور بھی ہو گئی تھی۔اور ایسی رنجش کا کسی اجتہادی رائے کی وجہ سے پیدا ہو نا قابل اعتراض نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت ابو بکر صدیق اور دیگر صحابہ (حضرت فاطمہ وغیرہ) کی ایسی کسی امکانی رنجش کے بارہ میں کیا خوبصورت رہنمائی فرماتے ہیں کہ آپ (حضرت ابو بکر سے مومنوں کے لیے فلاح و بہبود ہی ظاہر ہوئی۔آپ ایذا اور دکھ دینے کی تہمت سے پاک تھے۔۔۔جس نے دنیا سے صرف اسی قدر حصہ لیا جتنا اس کی ضرورتوں کے لیے کافی تھا تو پھر تو کیسے خیال کر سکتا ہے کہ اس نے رسول اللہ میم کی آل پر ظلم روا رکھا ہو گا۔باوجودیکہ اللہ نے آپ کو آپ کی حسن نسیت کی وجہ سے ان سب پر فضیلت عطا فرمائی ہوئی تھی۔۔۔اور ہر جھگڑا نیتوں کے فساد پر مبنی نہیں ہوتا جیسا کہ جہالت کے بعض پیروکاروں نے خیال کیا ہے بلکہ اکثر جھگڑے اجتہادات کے اختلاف سے پیدا ہوتے ہیں۔سب سے زیادہ مناسب اور درست طریق یہی ہے کہ ہم کہیں کہ خیر الکائنات علی علیم کے بعض صحابہ میں آغاز تنازعات در اصل اجتہادات تھے نہ کہ ظلم اور بدکاریوں کا ارتکاب۔اور مجتہد اگرچہ خطا کار ہوں وہ قابل