اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 222
ازواج النبی 222 حضرت ماریہ رض حضرت ابو بکر نے دیگر ازواج کی طرح حضرت ماریہ کا وظیفہ مقرر کیا ہوا تھا جو ان کے زمانہ خلافت میں جاری رہا پھر حضرت عمرؓ نے بھی آپ کی وفات تک اسے جاری رکھا۔(54) رسول اللہ علیم کے بعد فوت ہو نیوالی پہلی بیوی اور ایک اشکال کا حل ! حضرت ماریہ کی وفات 16ھ میں ہوئی اس لحاظ سے وہ رسول اللہ علیم کی وفات کے بعد سب سے پہلی فوت ہونیوالی زوجہ مطہرہ تھیں۔اس موقع پر رسول کریم طی می کنیم کی اس پیشگوئی کی وضاحت ضروری ہے جس میں آپ نے ازواج کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ تم میں سے سب سے پہلے مجھے وہ بیوی اس جہاں میں آملے گی جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں۔ہاتھ ماپنے کے لحاظ سے تو حضرت سودہ کے ہاتھ زیادہ لمبے نکلے مگر صحابہ نے بالا تفاق حضرت زینب (متوفیہ 20ھ) کو حضور می ی ی یتیم کی وفات کے بعد فوت ہو نیوالی پہلی بیوی مانا۔اور لمبے ہاتھوں سے ان کا صدقہ وغیرہ دینا مراد لیا گیا۔یہ تاویل اس صورت میں تو درست ہو سکتی ہے جب حضرت ماریہ کو ازواج میں شمار نہ کیا جائے مگر جیسا کہ گزشتہ بحث میں بیان ہو چکا ہے کہ حضرت ماریہ کنیز نہیں ، زوجہ کرسول تھیں۔اور انکی وفات رسول الله علی کریم کے بعد دیگر ازواج سے پہلے 16ھ میں ہوئی۔اب لمبے ہاتھوں والی بیوی کی پیشگوئی کے بارہ میں حضرت عائشہ اور دیگر بعض اصحاب رسول کم کی یہی رائے ہے کہ یہ حضرت زینب کے حق میں پوری ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی صحیح بخاری کی اس روایت کو قبول فرمایا ہے۔اس ظاہری تضاد کے حل کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔اول یہ کہ حضرت ماریہ کی تاریخ وفات حضرت زینب (16ھ) سے پہلے ثابت ہو مگر تاریخی تحقیق کا نتیجہ یہی ہے کہ حضرت ماریہ کی وفات 16ھ اور حضرت زینب کی وفات 20ھ میں ہی ثابت ہے۔اس تضاد کو رفع کرنے کی دوسری امکانی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جس وقت حضور ملی یا تم نے اپنی ازواج کو مخاطب کر کے یہ پیشگوئی فرمائی اس موقع پر سب ازواج ایک جگہ موجود اور مخاطب تھیں یا آپ کا خطاب موقع پر موجود صرف چند ازواج کو تھا۔نیز اس صورت میں کیا حضرت ماریہ کے موقع پر موجود ہونے کی بھی کوئی صراحت ملتی ہے۔اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ماریہ کا اس موقع پر موجود ہونا کسی روایت سے ثابت نہیں جبکہ بعض دوسری ازواج کی موجودگی کی صراحت مل جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات حضور نے گھریلو ماحول میں کسی خاص موقع پر موجود بعض ازواج کے اس سوال پر فرمائی تھی کہ ہم میں سے