اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 217 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 217

ازواج النبی 217 حضرت ماریہ 6۔خلفائے راشدین حضرت ابو بکر اور حضرت عمررؓ کا حضرت ماریہ کے ساتھ خصوصی احترام کا برتاؤ اور دیگر ازواج کی طرح ان کے لئے باقاعدہ نفقہ مقرر کرنا۔ان امور کی کسی قدر تفصیل سے یہ مضمون مزید واضح ہو جاتا ہے۔1۔اوّل:۔آنحضرت علی نیم غلاموں کی آزادی کی تعلیم کے علم بردار بن کر آئے تھے اور عمر بھر آپ نے غلامی کے خلاف جہاد کیا۔روایات سے ثابت ہے کہ کوئی ایک غلام بھی آپ نے اپنے قبضہ میں رکھنا پسند نہیں فرمایا۔حضرت خدیجہ نے اپنے غلام زید بن حارثہ میں آپ کی رغبت دیکھ کر آپ کی ملکیت میں دیا تو آپ نے اسے بھی آزاد کر کے اختیار دیا مگر انہوں نے رسول الله می کنیم کو اپنے والدین پر ترجیح دی۔اور حضور نے ان کو اپنا بیٹا بنا کر رکھا۔بعد میں بھی آنحضرت لیلی و یا یک تم اپنی زندگی میں ہمیشہ خود غلام آزاد کرتے اور دوسروں 37 سے کرواتے رہے۔صرف غزوہ حنین میں ایک دن میں ہی آپ نے چھ ہزار غلاموں کی آزادی کا حکم دیا۔لیکن ذاتی طور پر جو غلام آپ نے آزاد کئے وہ ایک روایت کے مطابق 63 تھے۔0 گو یا اپنی زندگی کے سالوں کے برابر آپ نے غلام آزاد کیسے اور بوقت وفات آپ نے کوئی ایک غلام یا 38 لونڈی ترکہ میں نہیں چھوڑی۔اس لحاظ سے حضرت ماریہ کو لونڈی بنا کر رکھنا آپ کے مزاج اور عادت کے خلاف تھا۔اس لئے حضور نے ان سے عقد فرما کر اپنی ازواج میں شامل فرمایا۔اور اس مقصد کیلئے کسی علیحدہ اعلان نکاح کی ضرورت نہیں تھی جیسا کہ حضرت صفیہ کو بھی رسول اللہ علیم کا اپنے حرم میں شامل فرمایا تو ازواج کی طرح پردہ کروانا ہی اس کا اعلان تھا۔2۔دوم:۔بعض دیگر اقوام کی طرح اہل مصر میں بھی قدیم سے یہ دستور تھا کہ وہ شاہان مملکت یا والیان ریاست اور معزز مہمانوں سے پختہ تعلقات استوار کرنے کی خاطر اپنے خاندان کی معزز لڑکیوں کار شتہ پیش کر دیتے تھے۔جیسا کہ بائبل کے مطابق فرعون مصر نے اپنی بیٹی حضرت سلیمان کو پیش کر دی تھی جس کے نتیجہ میں مصر اسرائیل کے حملہ سے محفوظ ہو گیا۔حضرت ابراہیم کے زمانہ کے فرعون مصر نے ان کی ولایت و بزرگی اور قبولیت دعا کا نشان دیکھ کر انہیں حضرت ہاجرہ کا رشتہ پیش کیا تھا۔اسی طرح اگرچہ مقوقس شاہِ مصر اپنی قوم کی مخالفت کے ڈر سے اپنا مذ ہب 39