اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 202
حضرت صفیہ 202 ازواج النبی ย 45 لونڈی سے پوچھا کہ اس شکایت کرنے سے تمہارا مقصد کیا تھا؟ اس نے کہا بس یہ تو شیطانی اکسا وا تھا۔آپ نے کس کمال ذرہ نوازی سے فرمایا "جاؤ میں تمہیں آزاد کرتی ہوں " یہ آپ کا حلم تھا کہ ایک لونڈی جس نے آپ کے خلاف شکایت کی آپ نے اسے بھی معاف کر کے حسن سلوک کیا۔حضرت صفیہ نے آنحضرت لیلی لایا کہ تم سے بعض احادیث بھی روایت کی ہیں۔آپ بیان فرماتی ہیں حضور طی یا تم نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ بعض لوگ خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوں گے اور وہ ہلاک ہونگے " میں نے عرض کیا یار سول اللہ علیم وہ لوگ جو حملہ آور ہوں گے ان میں سے ایسے بھی تو ہو سکتے ہیں جو اس بات کو نا پسند فرمارہے ہوں۔حضور طلیل لی کہ تم نے فرمایا " ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک ان کی نیتوں کے مطابق ہو گا۔" وفات حضرت صفیہؓ کی وفات رمضان 50ھ میں حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں ہوئی۔یہ عجیب توار د ہے کہ آنحضرت طی یتیم کے ساتھ آپ کی شادی بھی رمضان کے مہینہ میں ہی ہوئی تھی۔تدفین دیگر ازواج کے ساتھ جنت البقیع میں ہوئی۔اللہ تعالی نے فتوحات کے زمانہ میں حضرت صفیہ کو اموال وغیرہ عطا کئے اس کے نتیجے میں ایک لاکھ 47 رض در ہم نقد سے بھی زائد ان کا ورثہ تھا۔زمینیں وغیرہ اس کے علاوہ تھیں۔آپ نے اپنی خالہ کے یہودی بیٹے کے لئے اپنی جائیداد کے تیسرے حصے کی وصیت فرمائی۔48 اللَّهمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ *** ******** **