اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 177
ازواج النبی 177 رض حضرت اُ آنحضرت ہم نے ام حبیبہ کو یہ دعا کرتے سنا کہ اے اللہ ! میرے شوہر حضرت محمد مصطفی ایم کی عمر ملی یا سے مجھے بہت برکت عطا کر یعنی ان کے ساتھ رفاقت کا لمبازمانہ مجھے نصیب کرنا۔میرے باپ ابو سفیان کی عمر میں بھی برکت دینا اور ان سے بھی میں لمبے زمانہ تک فائدہ اٹھاؤں۔اور میرے بھائی معاویہ کی عمر میں بھی برکت دینا۔حضور علی کریم نے اپنی زوجہ مطہرہ کو یہ دعائیں کرتے ہوئے سنا تو کیا ہی عمدہ نصیحت فرمائی کہ یادر کھو اللہ تعالی کے ہاں کچھ میعاد اور تقدیریں اٹل ہوتی ہیں۔ضروری نہیں کہ ہر دعا اس تقدیر کو ٹال دے۔اللہ تعالیٰ پہلی چیز کو پیچھے نہیں کرتا اور پیچھے والی کو پہلے نہیں کرتا۔بالآخر آج یا کل سب نے خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہی ہے اسلئے دعا کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالی آگ اور قبر کے عذاب سے بچائے پس اپنے لئے اور سب کے لئے یہ دعا کیا کرو کہ اللہ تعالی انجام بخیر کر دے تو یہ زیادہ بہتر اور بابرکت ہو گا۔حقوق العباد رض حضرت ام حبیبہ کا صلہ رحمی کا یہ تعلق اپنے والد اور بھائی سے آخر دم تک رہا۔آنحضور ملی تم ایک روز اپنی ایک بیوی ام حبیبہ کے گھر میں داخل ہوئے۔وہ اپنے بھائی معاویہ کو پیار کر رہی تھیں۔آپ نے محبت کی نگاہوں سے اسے دیکھا اور بہن بھائی کی محبت کو طبعی تقاضوں کا ایک خوبصورت جلوہ تصور فرماتے ہوئے پاس بیٹھ گئے اور پوچھا ام حبیبہ کیا معاویہ تمہیں پیارا ہے۔حضرت ام حبیبہ نے جواب دیا جی حضور بھلا میں اپنے بھائی سے پیار نہ کروں گی ! اس پر آنحضرت اللہ کریم نے فرمایا کہ اگر یہ تمہیں پیارا ہے تو مجھے بھی پیارا ہے۔0 بیوی کا دل اس جواب کو سن کر کس قدر خوش ہوا ہو گا کہ آپ میرے رشتہ داروں کو غیریت کی نگاہ سے نہیں بلکہ میری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مجھ سے اس قدر محبت رکھتے ہیں کہ جو مجھے ہو اسی قدر ان کو بھی پیارا ہوتا ہے۔رض روایات کے مطابق آنحضرت لیلی تم نے ام حبیبہ کے والد ابو سفیان بن حرب کو جریش یا جرش کا گورنر مقرر کیا۔حضور علی ایم کے وصال کے وقت وہ حاکم نجران تھے۔حضرت ام حبیبہ کے دیگر ازواج کے ساتھ تعلق اور سلوک سے متعلق حضرت عائشہ کی ایک روایت بہت لطیف ہے اور وہ یہ کہ بوقت وفات حضرت ام حبیبہ نے انہیں بطور خاص اپنے پاس بلوایا اور کہا کہ دیکھو ہمارا تعلق باہم سوکنوں کا تھا۔اس تعلق میں بعض دفعہ کوئی خلش دل میں رہ جاتی ہے یا بعض دفعہ زیادتی بھی