اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 167
ازواج النبی فضائل 167 ام المؤمنین حضرت ام حبيبة حضرت اُم۔حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ لی ایم کی شادی بھی ایک الہی تقدیر تھی۔شادی سے پہلے حضرت ام حبیبہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک نووارد نے انہیں ام المومنین کے لقب سے مخاطب کیا جس سے پہلے تو وہ ڈر گئیں۔مگر خوشا نصیب کہ اس کی تعبیر رسول اللہ علیم سے عقد کی صورت میں ظاہر ہوئی۔شاہ حبشہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق حضرت ام حبیبہ سے آنحضور طی یتیم کے نکاح کا اعلان کیا۔حضرت ام حبیبہ کو اپنے والدین سے بھی بڑھ کر رسول اللہ لی لی تم سے پیار تھا۔صلح حدیبیہ کے بعد جب ان کے والد سردارِ مکہ ابو سفیان مدینہ آئے تو اپنی بیٹی سے بھی آکر ملے۔اس دوران وہ ان کے گھر میں آنحضرت علی الی الیتیم کے بستر پر بیٹھنے لگے تو حضرت ام حبیبہ نے فوراً آگے بڑھ کر اس بستر کو لپیٹ دیا۔سردار مکہ ابو سفیان نے بڑے تعجب سے سوال کیا کہ بیٹی ! کیا یہ بستر میرے قابل نہیں یا کوئی اور بات ہے ؟ حضرت ام حبیبہ نے عرض کیا، ابا ! یہ بستر میرے شوہر نامدار ہی کا نہیں میرے آقا حضرت محمد مصطفی مہم کا بھی ہے۔رض نام و نسب و قبول اسلام حضرت ام حبیبہ کا نام ہند مشہور تھا۔آپ مکہ کے مشہور سردار ابو سفیان بن حرب کی بیٹی تھیں اور قبیلہ قریش کی شاخ بنو امیہ سے تعلق تھا۔آپ کی والدہ صفیہ بنت ابو العاص حضرت عثمان بن عفان کی پھوپھی تھیں۔روایات میں آپ کا دوسرا نام رملہ بھی مذکور ہے۔0 اللہ تعالی نے حضرت ام حبیبہ کو ابتدائی زمانہ میں ہی اپنے شوہر کے ساتھ قبول اسلام کی توفیق عطا فرمائی۔آپ کا نکاح حضرت عبید اللہ بن جحش سے ہوا تھا جو آپ کے دادا حرب کے حلیفوں میں سے تھے۔ان کے رض