اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 139 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 139

ازواج النبی 139 حضرت زینب بنت جحش اس رشتہ کے پس منظر میں دیگر اہم مقاصد بھی تھے جن میں جاہلیت کے قبائلی تفاخر کا خاتمہ ،رنگ و نسل کی تمیز مٹانا، احترام انسانیت اور اسلامی مساوات کا قیام شامل ہے۔جن کے ذریعہ ان غلاموں سے حسن سلوک تعلیم به کا ایک شاندار نمونہ پیش کیا گیا جنہیں جاہلیت میں جانوروں سے بھی بد تر سمجھا جاتا تھا۔جبکہ اسلامی " تھی کہ اِنَّ اكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات : 14) تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تقویٰ کے ย لحاظ سے سب سے بڑھ کر ہے۔اسی بناء پر کفو کا معیار نبی کریم طی ی ی سلیم نے حسن و جمال ، مال و منال اور نسب و عزت کی بجائے دین کو قرار دیا کہ اسی میں خیر و برکت ہے۔یہ تھیں وہ وجوہات جن کی بناء پر آنحضرت نے شادی کی یہ تجویز حضرت زینب کے سامنے رکھی۔شروع میں طبعاً انہیں کچھ روک بھی پیدا ہوئی کیونکہ آپ کا تعلق قریش کے خاندان سے تھا اور ابراہیمی نسبت اور تولیت کعبہ کے باعث یہ خاندان قریش کے معزز ترین خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔اور ان کی کسی عورت کارشتہ کسی غلام کے ساتھ کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہو سکتا تھا۔آنحضرت می نم کی وعظ و تلقین کے بعد حضرت زینب نے اپنی سعادت ورشد کے باعث یہ رشتہ قبول کر لیا۔مگر شاید ایک طرف حضرت زید کو آزاد کردہ غلام ہونے کا احساس دوسری طرف حضرت زینب کے ایک معزز قبیلے کی شریف زادی ہونے کی صور تحال میں جو قدرتی تفاوت تھا وہ دور نہ ہو سکا اور گھر یلو نباہ میں مشکل پیش آئی۔آنحضرت لیلی کیم کے سامنے جب اس گھرانے کے بعض مسائل یا شکایات آئیں تو پہلے آپ نے فریقین کو سمجھایا، خاص طور پر حضرت زید کو خالصہ تقویٰ کے پیش نظر اپنے معاملات سلجھانے کی تلقین فرمائی۔کیونکہ آپ محسوس کرتے تھے کہ اگر وہ دین و تقویٰ کو مقدم کرتے ہوئے اس رشتے کو نبھانے کے لئے کوشش کریں اور کچھ قربانی دیں تو یہ رشتہ شاید نبجھ جائے۔قرآن شریف میں اس بارہ میں واضح اشارہ ہے کہ آنحضرت علم حضرت زید کو یہ نصیحت فرماتے تھے کہ أَمسِكُ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ الله (الاحزاب : 38) کہ اے زید ! تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار نہ کرو۔کیونکہ آنحضور ملی یم نے کئی اغراض دینیہ کے پیش نظر یہ رشتہ طے فرمایا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کی بعض دیگر مخفی حکمتوں کے تابع یہ رشتہ نبھ نہیں سکا اور بالآخر حضرت زید کو حضرت زینب سے علیحدگی اختیار کرنی ہی پڑی۔مگر کیا ہی خوش قسمت تھے حضرت زید محض اس لئے نہیں کہ آپ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام کلام مجید میں اس موقع پر ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے