اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 120 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 120

ازواج النبی 120 ย حضرت ام سلمہ سوتیلی والدہ کا نام تھاجو آنحضور طی نم کی پھوپھی تھیں۔ان سے آپ کے دو بھائی عبد اللہ اور زہیر تھے۔ہجرت حبشه و مدینه حضرت ام سلمہ نے اپنے شوہر حضرت ابو سلمہ کے ساتھ ابتدائی زمانہ میں اسلام قبول کرنے کی توفیق پائی، مصائب و مشکلات کے ابتدائی کی دور میں جب حضور طی می کنیم نے اپنے اصحاب کو پہلی دفعہ ہجرت کی اجازت دی تو حضرت ام سلمہ کو اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ ہجرت کرنے کی سعادت عطا ہوئی۔حبشہ سے مکہ واپس آئیں تو دوبارہ مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔اس موقع پر ایک بہت بڑا ابتلاء بھی آپ کو پیش آیا۔جس میں آپ نے کمال استقامت کا نمونہ دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو سر خرو فرمایا۔واقعہ یوں ہوا کہ حضرت ابو سلمہ اپنے بیٹے سلمہ اور بیوی ام سلمہ کے ساتھ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جانے لگے تو ام سلمہ کے قبیلہ کے لوگوں نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو تمہارے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔یوں ابو سلمہ بیوی بچوں کی قربانی دے کر تن تنہا ہجرت کر کے مدینہ پہنچ گئے۔کچھ عرصہ بعد حضرت ابو سلمہ کے اہل خاندان نے مطالبہ کیا کہ سلمہ ہمارے بیٹے کی اولاد ہے جس پر ہمارا حق ہے اس لئے وہ ہمیں دے دیا جائے۔سلمہ اس وقت کم سن بچہ تھا۔جسے انہوں نے حضرت ام سلمہ سے چھین کر الگ کر لیا۔حضرت ام سلمہ کو اپنے خاوند اور معصوم بچے سے جدائی کا یہ عرصہ نہایت بے چینی اور اذیت میں گزار نا پڑا۔بالآ خر ایک سال کے بعد حضرت ابو سلمہ کے گھر والوں نے ماں کو بچہ واپس کیا اور حضرت ام سلمہ اسے لیکر اپنے شوہر کے پاس مدینہ پہنچ گئیں۔2 حضرت ام سلمہ کو یہ دوہری سعادت بھی عطا ہوئی کہ دو ہجرتوں کی توفیق پائی۔پہلی ہجرت حبشہ کے دُور دراز ملک میں اور دوسری مدینہ کی طرف آپ کو پہلی ہجرت کرنے والی خاتون بھی کہا جاتا ہے۔شاید اس لئے بھی کہ تنہا ہجرت کر کے مدینہ آئیں۔جبکہ ایک اور روایت کے مطابق حضرت لیلی بنت خیمہ 8 زوجہ عامر بن ربیعہ بھی اس اولیت میں آپ کی شریک ہیں۔0 حضرت ابو سلمہ سے آپ کی اولاد میں سلمہ اور عمر دو بیٹے اور درہ اور زینب دوبیٹیاں تھیں۔پہلے شوہر کی وفات 9 حضرت ام سلمہ کے پہلے شوہر حضرت ابو سلمہ آنحضرت علی علی کریم کے انتہائی وفا شعار صحابہ میں سے تھے۔