اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 105
ازواج النبی 105 حضرت حفصہ والد حضرت عمر کی طرح روایات بیان کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت 22 عائشہ کی طرح آپ کی بھی بہت زیادہ روایات نہیں ہیں۔تا ہم جو روایات ہیں ان سے آپ کے علمی مقام کا بھی خوب اندازہ ہوتا ہے۔ان روایات میں آنحضرت کے گھر یلو احوال بھی آپ نے بیان فرمائے ہیں۔کبھی آپ نے حضور علیم سے کوئی علمی مسئلہ دریافت کیا تو اس کا بھی ذکر کیا ہے۔ایک دفعہ انہوں نے اپنے بھائی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی خواب رسول اللہ لی ایم کی خدمت میں بیان کر کے تعبیر چاہی تھی۔حضور علی سلم نے فرمایا " تمہارا بھائی عبد اللہ بن عمر بہت ہی اچھا انسان ہے۔کاش ! وہ رات کو نماز تہجد کا اہتمام کیا کرے۔حضرت حفصہ نے یہ پیغام اپنے بھائی کو پہنچایا تو وہ بڑی استقامت سے ستجد پر قائم ہو گئے۔رسول اللہ تعلیم کے معمولات اور عبادت کا تذکرہ اور اس کی پیروی حضرت حفصہ، حضور کی پاکیزہ سنت بیان کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ رسول نیم کے سونے کا طریق یہ تھا کہ دایاں ہاتھ آپ دائیں گال کے نیچے رکھ کر دائیں پہلو ہو کر لیٹتے تھے۔اور سوتے وقت یہ دعا بھی کرتے تھے رَبّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ۔اے میرے ربّ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچانا اور محفوظ رکھنا جس دن اپنے بندوں کو تو اٹھائے گا۔حضرت حفصہ نے رسول کریم کے بعض اور معمولات یہ بیان کئے کہ آنحضرت لیلی ہم نے چار چیزوں کو کبھی نہیں چھوڑا ، جن کا آپ خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے ایک عاشورہ یعنی دسویں محرم کا روزہ، دوسرے عشرہ ذوالحجہ کے روزے، تیسرے ہر مہینے میں تین روزے بالعموم سوموار ، جمعرات اور بدھ کو اور نماز فجر سے پہلے 24 دور کعتیں۔آنحضرت علیم کی پاکیزہ صحبت میں رہتے ہوئے حضرت حفصہ نے آپ کی عبادات کا طرز عمل بھی خوب اپنا یا یہاں تک کہ رسول اللہ سلیم کو خدائے عالم الغیب کی طرف سے ان کی زندگی میں ان کے عبادت گزار ہونے کی سند عطا ہوئی۔آخری عمر میں بھی آپ کثرت سے روزے رکھتی رہیں اور وفات تک مسلسل اس کی توفیق ملی۔26