اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 104 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 104

ازواج النبی 104 حضرت حفصہ 20 ازواج کی کبھی کبھار باہمی مناقشت کو آنحضرت علی کم کمال حکمت عملی سے دور فرما دیتے تھے۔ایک دفعہ حضرت حفصہ نے حضرت صفیہ کو طعنہ دے دیا کہ تمہارا تعلق تو یہودی قبیلے سے ہے اور تم یہودیوں کی اولاد ہو۔اس پر وہ رونے لگیں۔حضور علی می کنیم گھر تشریف لائے تو حضرت صفیہ کو روتے دیکھ کر فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ آپ نے رسول اللہ علیم سے حضرت حفصہ کی اس بات کا ذکر کیا کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم قریش کے خاندان سے ہیں اور تم یہودیوں کی بیٹی ہو۔حضور طی می کنیم نے فرمایا " تم ایک نبی (ہارون) کی بیٹی ہو اور تمہارے چچا حضرت موسی بھی نبی تھے۔اور تم خود نبی کی بیوی ہو۔پھر وہ (حفصہ) تم پر کس طرح فخر کر سکتی ہیں۔( یعنی میرا تو تین نبیوں سے تعلق بنتا ہے اور تم ایک نبی کا تعلق مجھ پر جتلا رہی ہو ) پھر آپ نے فرمایا اے حفصہ ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو" اسی طرح کے ایک واقعہ کی تفصیل احادیث میں یوں مذکور ہے کہ آنحضرت علی تم کسی بیوی کے ہاں شہد کا شربت پینے کے لئے ٹھہر گئے۔جہاں آپ کو کچھ تاخیر ہو گئی۔حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ کو اس بیوی پر غیرت آئی اور دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ حضور کو آئندہ اس سے روکنے کے لئے اس شہد کے کسی نقص کی طرف توجہ دلانی چاہئے۔چنانچہ حضور جب ان کے ہاں ملاقات کے لئے تشریف لے گئے تو پہلے حضرت حفصہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! آج آپ نے کوئی بو دار شہر پیا ہے ؟ شاید اس کی مکھی فلاں بوٹی پر بیٹھتی اور اس کارس چوستی ہو گی۔پھر آپ حضرت عائشہ کے ہاں گئے تو انہوں نے بھی ایسا ہی ذکر کر دیا۔آنحضرت طی می کنم نے اپنی نفاست طبع کے باعث کہ کسی کو مجھ سے تکلیف نہ پہنچے یہ عہد کیا کہ میں آئندہ کبھی شہد نہیں پیوں گا۔چنانچہ سورۃ تحریم میں ارشاد ہوا: - يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمُ - (التحريم:2) یعنی اے نبی اس چیز کو محض اپنی بیویوں کی خواہش کی خاطر اپنے لئے کیوں حرام کرتا ہے جو خدا تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کی ہے۔روایات حدیث 21 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت حفصہ نے بہت کچھ سیکھا جسے انہوں نے اپنی روایات اور احادیث میں بیان کیا ہے۔ساٹھ کے قریب ایسی روایات اور احادیث موجود ہیں۔حضرت حفصہ نے بھی اپنے