اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 85 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 85

ازواج النبی 85 حضرت عائشہ حضرت عروہ بیان کرتے تھے میں نے حضرت عائشہ سے بڑھ کر علم قرآن رکھنے والا، میراث کا علم جاننے والا ، حلال و حرام کا عالم ، علم فقہ، شعر وادب، طب کا ماہر ، تاریخ عرب اور علم الانساب کا عالم کوئی نہیں دیکھا جو بیک وقت ان تمام علوم پر یکساں قدرت رکھتا ہو۔حضرت علیؓ سے علمی مناسبت 55 اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کو جو غیر معمولی علمی مقام عطا کیا تھا وہ دراصل نوعمری سے رسول کریم کی بابرکت صحبت کے فیض کا نتیجہ تھا۔اس پہلو سے آپ کو اہل بیت کے ایک اور وجود حضرت علی خلیفہ راشد سے بھی خاص علمی مناسبت ہے کہ انہوں نے بھی کم سنی میں رسول اللہ علیہ سے علمی فیض اور ورثہ پایا اور اس ارشاد رسول کے مصداق ہوئے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔تعجب ہے کہ بعض لوگ حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ کی باہمی مناقشت از راه تکلف ظاہر کرنے کی بات تو کرتے ہیں۔مگر نامعلوم کیوں اس علمی مناسبت اور موافقات کی طرف توجہ نہیں کرتے اور ان کو فراموش کر جاتے تھے۔کئی اہم مشکل علمی مسائل پر ان دونوں بزرگ حضرات کی عالمانہ آراء ہمارے لئے راہنمائی کا موجب ہیں۔مثلاً امت میں ایک اہم مسئلہ ختم نبوت کی تفسیر کے بارہ میں پیدا ہونیوالا تھا۔اسکے بارہ میں حضرت عائشہ اور حضرت علی دونوں بزرگان کی دور بین نگاہ نے بھانپ کر کیا خوب روشنی ڈالی۔حضرت علی نے تو اپنے بچوں کے استاد کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ میرے بچوں کو خاتم النبیین میں لفظ خاتم تاء کی زیر سے نہیں بلکہ زبر سے پڑھانا۔کیونکہ خاتم کے معنی مہر اور انگوٹھی، اور خاتم کے معنی ختم کرنے والے کے ہیں۔اسی طرح حضرت عائشہ نے بھی رسول اللہ صلی علیم سے علم پاکر اس اہم موضوع کی طرف امت کو یہ توجہ دلائی کہ قُولُوا خَاتَمَ النَّبِيِّين وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعدَهُ یہ تو کہو کہ حضور علی تیم خاتم النین ہیں مگر نہ کہو کہ آپ کے بعد نبی نہیں۔اس کے علاوہ آنحضرت کے ان دونوں مایہ ناز شاگردوں کی علمی موافقت کی مثالیں موجود ہیں۔مثلاً حضرت علیؓ کی رائے میں آیت يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعَكُنَّ وَأُسَرِحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا (الاحزاب : 29) سے مراد طلاق نہیں تھی بلکہ دنیا و آخرت میں سے کسی ایک چیز کا اختیار مراد تھا۔بعینہ یہی رائے حضرت عائشہ کی ہے 58 59