اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 84
ازواج النبی 84 حضرت عائشہ ہوا۔آنحضرت لی ہم نے حضرت عائشہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔اور آپ کے اکتساب فیض ہی کی بدولت ہمیشہ کے لئے پھر حضرت عائشہ امت کی معلمہ بن گئیں۔آپ نے فرمایا کہ نصف علم حضرت عائشہ سے سیکھو۔امام زہری روایت کرتے ہیں آنحضرت نے حضرت عائشہ کے علمی مقام کا ذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا اگر اس امت کی عورتوں کا علم جمع کیا جائے تو عائشہ کا علم ان تمام عورتوں سے بڑھ جائے۔حضرت عروہ ، حضرت عائشہ کے بھانجے اور بیٹوں کی طرح تھے کسی نے ان سے کہا۔آپ کو بہت اعلیٰ درجے کے شعر یاد ہیں جو آپ برجستہ پڑھتے ہیں۔انہوں نے کہا مگر اپنی خالہ حضرت عائشہ کے مقابلہ میں میری کچھ بھی حیثیت نہیں جو کسی بھی واقعہ یا معاملہ پر عرب شعراء کے کمال برجستہ اور بر محل شعر پڑھتی ہیں۔حضرت عروہ نے ایک دفعہ حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ ام المومنین آپ کے علم فقہ سے تو مجھے اسلئے تعجب نہیں ہوتا کہ آپ آنحضرت کی زوجہ مطہرہ ہیں اور عمر بھر آپ نے ان سے مسائل سیکھے ہیں۔آپ کی شعر وادب سے دلچسپی اور اہل عرب کی جنگوں کی تاریخ جاننے سے بھی حیرت نہیں ہوتی کہ آپ حضرت ابو بکر کی صاحبزادی ہیں، جنہیں ان علوم پر عبور تھا اور اپنے باپ سے یہ علوم آپ نے سیکھے ہوں گے ، مگر یہ تو بتائیں علم طب میں درک آپ نے کہاں سے پایا؟ حضرت عائشہ نے فرمایا:۔اے میرے بھانجے ! آخری عمر میں جب آنحضرت طی یہ تم بیمار ہوئے تو اس زمانہ میں مختلف علاقوں سے کثرت سے وفود آتے تھے۔وہ آنحضرت کیلئے مختلف نسخے تجویز کیا کرتے تھے۔میں اپنے ہاتھ سے وہ نسخے بنایا کرتی تھی۔اس زمانے سے مجھے طب میں بھی ایک مہارت اور دلچسپی پیدا ہو گئی۔حضرت عائشہ کے علمی مقام کے بارے میں حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے تھے کہ صحابہ کرسول کو جب کسی مسئلہ کے بارے میں کوئی الجھن پیش آتی تو ہم حضرت عائشہ سے دریافت کرتے تھے اور ہمیں ان کے پاس سے کوئی نہ کوئی بات لازماً اس مسئلے کے بارہ میں مل جایا کرتی تھی۔یہ بات آپ کے شاندار حافظے پر دلالت کرتی ہے۔حضرت امیر معاویہ خود ایک بہت بڑے خطیب تھے۔وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے حضرت عائشہ سے زیادہ فصیح و بلیغ مقر ر اور آپ سے بڑھ کر کوئی ذہین نہیں دیکھا۔53 54