آغاز رسالت — Page 7
کے لئے عمدہ عمدہ تحفے لایا کرتے تھے۔وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چازاد بھائی تھے۔ایک دوست زید بن عمر د تھے۔وہ بھی خدا تعالیٰ کے ایک ہونے کے قائل تھے۔یعنی دین ابراہیمی پہ قائم تھے (زمانہ گیا تھا۔سلام سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو آپ اپنے دوستوں سے باتیں کرتے کہ آپ کو بتوں کی پو جا پتہ نہیں۔آپ کے دوست اور دوسرے جاننے والے آپ کی باتوں کو سنتے کبھی مان جاتے کبھی نہ مانتے مگر ایسا ہوتا کہ جہاں بھی بات ہوتی وہ اس بات کا تذکرہ کر تے کہ مد اصلی ال لی کہ ہیم اللہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک ہے اُسی کو سب طاقتیں ہیں۔اس کے علاوہ کسی کو کچھ دینے والا یا مالک تصور کرنا غلط ہے۔باتیں سچی تھیں اس لئے دلوں پر ائمہ کمر میں چند دوستوں، ورقه، زید اور عثمان بن جو برت کو خیال آیا کہ پتھر کے بتوں کے آگے ، جو کوئی سمجھ نہیں رکھتے ، سر جھکانا ہے قائدہ ہے بلکہ حماقت ہے۔چنانچہ سب اپنی اپنی سمجھ کے مطابق حقیقی خدا کی تلاش میں نکلے۔ورقہ اور عثمان تو عیسائیت سے متاثرہ ہو کر عیسائی ہو گئے اور زیدیہ کہتے کہتے مر گئے کہ خدا اگر مجھ کو یہ علم ہوتا کہ تجھ کو کس طرح پوجنا چاہیئے تو میں اُسی طریقے سے تجھ کو پوجتا۔" 16 (سیرة النبی شیلی مت (۲) ان باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جھوٹے خداؤں سے بے زاری کی ہر پیدا ہو رہی تھی۔اس اہر کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ تجارتی سفروں میں یہودیوں، عیسائیوں اور مکہ کے بت پرستوں کا آپس میں میل بول رہتا۔ایک دوسرے کے عقائد اور ان کی اخلاقی حالت