آغاز رسالت — Page 6
ہر قل شاہ روم کے سامنے ابو سفیان نے گواہی دی کہ محمد (صلی اللہ علیہ دوستم) نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔(بخاری کتاب بدء الوحی) ایک اور جانی دشمن النظر بن حارث نے کہا۔محمد تم میں ہی ایک چھوٹا سابچہ ہوتا تھا اور وہ تم سب سے زیادہ راست گو تھا اور سب سے زیادہ امین تھا۔اور اس کے متعلق تمہاری یہی رائے تھی حتی کہ جب تم نے اس کی زلفوں میں سفیدی دیکھی اور وہ بڑھاپے کو پہنچا اور وہ تمھارے پاس وہ کچھ لایا جو وہ لایا تو تم یہ کہنے لگے کہ وہ ساحر ہے اور جھوٹا ہے۔خدا کی قسم وہ جھوٹا اور جاد دگر ہرگہ نہیں۔“ (شقا قاضی عیاض و ابن هشام) اللہ تعالیٰ نے آپ میں امانت اور صداقت کے ساتھ اعلیٰ اخلاق و کردار کی ہر خوبصورتی اپنی انتہائی بلند سطح تک جمع کر دی تھی۔اچھی اچھی باتیں آپ کو کوئی سکھاتا نہیں تھا۔آپؐ کا دل ہی ایسا تھا کہ اس میں سیدھی سچی صاف اور ستھری باتیں ہی آتی تھیں۔آپ ایسے لوگوں میں رہتے تھے جو بتوں کی پوجا کرتے تھے مگر آپ کا دل کہتا کہ یہ غلط ہے۔معبود صرف ایک ہے۔جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک خدا کو ماننے والے تھے۔آپ جب اپنے دوستوں میں بیٹھتے تو اپنی سوچ کے مطابق باتیں کرتے۔آپ کے دوستوں میں ایک عبداللہ ابن ابی قحافہ ابو بکر تھے۔(جو بعد میں آپ کے خلیفہ اول بنے) ایک دوست حکیم بن حزام تھے جو آپ سے بہت محبت رکھتے تھے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی بہت اچھی دوستی تھی۔آپ