آغاز رسالت — Page 5
آغاز رسالت فارحرا اور پہلی وحی حجر اسود نصب کرتے وقت قریش مکہ کے سب قبیلوں کے اہم لوگوں نے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر رضامندی اور خوشنودی کا اظہار کر کے آپ کے اخلاق وکردار کے پاکیزہ ہونے کی گواہی دی۔ایک نیم بند جو اُن کے سامنے پکا پڑھا تھا۔سب کی آنکھ کا تارا تھا اس کی پیاری عادتوں سے سب واقف تھے۔اور عام طور پر ذکر بھی ہونا کہ محمد بہت امانت دار ہیں سب لوگ آپ کی اس خوبی سے خوب ' واقف تھے اگر صرف اتنا کہا جاتا کہ امین آرہا ہے، تو سب کے علم میں ہوتا کہ دراصل محمد آرہے ہیں۔جن کی نمایاں ترین خوبی امانت و دیانت ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی علم تھا کہ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔امین ، کے ساتھ ' صادق بھی نام کی طرح مشہور تھا۔محمد جھوٹ نہیں بولتے۔یہ بات نہ صرف آپ کے رشتہ دار یا چاہنے والے جانتے تھے بلکہ دشمن بھی اعتراف کرتے تھے حتی کہ آپ کا سب سے بڑا جانی دشمن ابوجہل بھی اس خوبی سے واقف تھا۔آپ کے زمانہ نبوت میں ایک دفعہ اُس نے کہا۔" اے محمد ہم تجھے جھوٹا نہیں کہتے بلکہ اس بات کو جھوٹا کہتے ہیں جو تو لایا ہے۔" (ترمذی)