عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 60
60 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول اتنے ہی نئے خلیات پیدا نہ ہوں تو ایک عدم توازن پیدا ہو جائے گا۔اس اصول کا اعضاء پر اطلاق کر کے دیکھا جائے تو اس کے نتائج بآسانی سمجھ آسکتے ہیں۔آنکھ کی ہی مثال لے لیں۔آنکھ جو افعال سرانجام دیتی ہے ان کے دوران آنکھ کے ہر حصہ میں خلیات مسلسل استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔اب اگر نئے بننے والے خلیات کی تعدا د مرنے والے خلیات سے زیادہ ہو جائے تو آنکھیں بڑی ہو کر باہر نکل آئیں گی اور اگر اس توازن کا پلڑا دوسری طرف جھک جائے تو آنکھ کی جسامت کم ہوتے ہوتے پہلے تو ایک نقطہ کے برابر رہ جائے گی اور پھر بالکل ہی معدوم ہو جائے گی۔مختصر یہ کہ اگر جسم کے کسی بھی عضو کا توازن بگڑ جائے تو یا تو یہ بہت ہی بڑا ہو جائے گا یا پھر بکلی فنا ہو جائے گا۔عالم حشرات پر ایک نظر: اگر چہ اب تک بعض ترقی یافتہ انواع حیات اور انسان کے جسمانی نظام کی مثالیں دی گئی ہیں لیکن یادر ہے کہ نظام عدل تمام انواع حیات کا پوری طرح احاطہ کئے ہوئے ہے۔حشرات کی دنیا کیلئے بھی نگرانی کا یہ نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہر کیڑے کا ایک مقررہ حجم ہے جو اگر مسلسل ایک نظام کے تابع نہ رہے تو نا قابل تصور حد تک بگڑ سکتا ہے۔حشرات الارض اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کیلئے بعض ایسی مخصوص قسم کی غذائیں کھاتے ہیں جو ان کے مناسب حال ہیں۔اگر قوانین قدرت ان کی مسلسل نگرانی نہ کر رہے ہوتے تو ان کا حجم بڑھ کر سارے کرۂ ارض کے برابر ہو جاتا۔ان کی نشو و نما ایک مخصوص مقام تک پہنچ کر کیوں رک جاتی ہے؟ ایسی کون سی طاقتیں ہیں جنہوں نے یہ حدود متعین کر رکھی ہیں؟ ایسا کون سا نظام ہے جو ان کی نشو ونما کو ایک حد کے اندر رکھتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے۔ان جانداروں کو بلا روک ٹوک بڑھنے دینا بظاہران کے ساتھ رحم کا سلوک دکھائی دیتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دیگر تمام انواع حیات کو قربان کر کے انہیں بڑھنے دیا جائے؟ پس توازن یا انسانی اصطلاح میں عدل از خود قائم نہیں رہتا بلکہ بعض مخصوص قوتوں کے تابع اسے کنٹرول کیا جاتا ہے۔قبل ازیں ہم نے جسم کے ہر عضو کی نشو ونما کی مثال دی تھی۔وہ نظام جو دانتوں اور آنکھوں وغیرہ کی نشو و نما کو ان مذکورہ بالا جانوروں میں کنٹرول کرتا ہے دراصل تمام انواع حیات پر حاوی ہے۔افسوس کہ انسان بے حد نا شکرا ہے۔وہ اپنی تمام تر ذہانت کے باوجود اس قادر مطلق ہستی سے غافل ہے جس کی گواہی کائنات کا ذرہ ذرہ دے رہا ہے۔