عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 34
34 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول 4- عالم حیوانات جہاں تک فلاسفروں کا تعلق ہے تو ان میں سے بعض کے نزدیک تخلیق کائنات کسی خالق کی محتاج نہیں ہے۔ان کے خیال میں یہ از خود جاری رہنے والا ایک اندھا ارتقائی عمل ہے۔ظاہر ہے کہ وہ اسی اندھے اصول کی بنیاد پر انسانی فطرت کو بھی سمجھنا اور اس مسئلہ کو سلجھانا چاہتے ہیں۔وہ تجویز کرتے ہیں کہ انسان پر کسی قسم کی اخلاقی پابندیاں عائد نہیں ہونی چاہئیں بلکہ اسے اپنی مرضی سے زندگی بسر کرنے کا اسی طرح مکمل اختیار ہونا چاہئے جیسا کہ جانوروں کو حاصل ہے۔اس تناظر میں ہمیں ان کے ہاں اللہ تعالیٰ جیسی کسی بھی بیرونی طاقت کا کوئی کردار دکھائی نہیں دیتا جو ایک بالا ہستی کے طور پر انسان کیلئے کوئی ضابطہ حیات وضع کرے۔ان کے نزدیک انسانی زندگی میں عدل کا تصور در حقیقت عقل انسانی کی تدریجی ترقی کا مرہون منت ہے جس نے انسانی معاشرہ کی ترقی کیلئے نہایت لمبے تجربات کی روشنی میں کچھ قواعد وضوابط وضع کرنے شروع کئے۔ان میں سے کچھ کا تعلق عدل سے بھی ہے۔مذہبی نقطہ نظر اس سیکولر معاشرتی نظریہ سے واضح طور پر متصادم ہے۔مذہب ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ انسان میں صحیح یا غلط کے بارہ میں فیصلہ کرنے کی قوت ایک خاص مقصد کیلئے ودیعت کی گئی ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ انسان یہ فیصلہ کرے کہ کیا اسے جانوروں کی طرح اپنی جبلی خواہشات کی پیروی کرنی چاہئے یا پھر بعض حالات میں اسے بعض کاموں سے رک جانا چاہئے۔پس اگر ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ انسان کو یہ خوبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ رہنمائی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ملنی چاہئے کہ اسے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔اس بحث کو سمجھنے کیلئے چند مثالوں سے اس مضمون کی وضاحت ضروری ہے۔مثلاً شیر کی جبات اسے کہے گی کہ بھوک مٹانے کیلئے ایک جانور کو مارڈالولیکن اس بات کا فیصلہ کہ جانور کو اس طرح مارا جائے کہ اسے کم سے کم تکلیف ہو شیر کی طاقت سے باہر ہے۔یہ خدا تعالیٰ ہی ہے جس نے اسے اپنے شکار کو مارنے کے ایسے گر سکھا دیئے جو کم سے کم تکلیف دہ ہیں یعنی جن کے نتیجہ میں غیر ضروری تکلیف سے بچا جاسکتا ہے۔عمل تقویم کے ایک لمبے عرصے تک تدریجا جاری رہنے کے نتیجے میں ایک معین تبدیلی رونما ہوئی جس کے ذریعے جانوروں کو آہستہ آہستہ دوسروں کی تکلیف سے آگاہی حاصل ہوئی۔انسانوں