عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 28

28 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول وَأَثْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونِ (المجر 20:15) ترجمہ: اور اس میں ہر قسم کی متناسب چیزا گائی۔زمین پر ہر ایک چیز کامل عدل کے عظیم قانون فطرت کے زیر اثر نمو پذیر ہے۔اس قانون سے کسی کو کوئی مفر نہیں ہے۔الہی قوانین فطرت کے تابع ہی زمین پر ہر شے پروان چڑھ رہی ہے۔اس سیاق و سباق میں عربی کا لفظ انبتنا ، یعنی ہم ہی روئیدگی نکالنے والے ہیں، خاص توجہ کا طالب ہے۔عموماً سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ صرف نباتاتی افزائش کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن یہ درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انسانی پیدائش اور نشو و نما کیلئے بھی یہی لفظ استعمال فرمایا ہے۔چنانچہ سورہ نوح کی درج ذیل آیت میں لفظ نبات زمین پر انسان کی تخلیق اور تدریجاً نشو و نما کیلئے استعمال ہوا ہے: وَالله أَنْبَتَكُم مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ( نوح 18:71) ترجمہ: اور اللہ نے تمہیں زمین سے نبات کی طرح اگایا۔اس آیت میں انسان کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس کی پیدائش اور نشوونما کے متعلق قطعیت کے ساتھ فرماتا ہے کہ یہ اسی طریق پر ہوئی ہے جس طرح نبات“ کا لفظ بیان کر رہا ہے جس کے معنی ہیں ”نباتاتی نشو و نما“۔پہاڑ : اب ہم سورۃ الحجر کی بیسویں آیت کو سورۃ لقمان کی گیارہویں اور بارہویں آیت سے ملا کر پڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس طرح مؤخر الذکر آیت میں اسی زیر بحث مضمون کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔فرمایا: وَالْأَرْضَ مَدَدْنَهَا وَالْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُون (20:15 31) ترجمہ: اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور اس میں ہم نے مضبوطی سے گڑے ہوئے ( پہاڑ ) ڈال دیئے اور اس میں ہر قسم کی متناسب چیزا گائی۔خَلَقَ السَّمَوتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةِ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا