عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 241

رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم 241 میں میرے ساتھ کیا ہے جس طرح میرے بچپن کے آغاز میں انہوں نے بڑی رحمت کے ساتھ میرے ساتھ سلوک فرمایا تھا۔اس تعلیم میں تین باتیں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرما دی گئی ہیں پہلے عدل کا مضمون بیان فرمایا ہے کہ ہر گز اپنے والدین کو نہیں جھڑ کنا۔جو کچھ زیادتی ان کی طرف سے دیکھو سمجھو کہ بڑھاپے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔بچپن کا اشارہ کر کے سمجھا دیا کہ دیکھو بچپن میں تم بھی تو ان کے کپڑے گندے کیا کرتے تھے۔تم بھی تو ان کی راتوں کی نیند حرام کر دیا کرتے تھے تمہاری خاطر وہ بھی تو جا گا کرتے تھے اور دن کے وقت جگہ جگہ ان کی قیمتی چیزیں توڑتے پھرتے تھے ران کیلئے ہر وقت کی مصیبت دن کے آرام میں مخل ، وہ تھکے ہوئے سونے لگتے تھے تو چیخ مار کر ان کو جگا دیا کرتے تھے۔ساری باتیں بھول گئے ہو۔فرمایا بچپن کو یاد کرو اور پھر حوصلہ اختیار کر واور ہرگزان کو ان باتوں پر ڈانٹا نہ کرو۔آنحضرت ﷺ کا یہ طریق تھا کہ قرآنی تعلیم کو بعض دفعہ حکایت کے رنگ میں اس طرح بیان فرماتے تھے کہ وہ حکایات گہرا اثر کرتی تھیں اور دل میں ڈوب جایا کرتی تھیں۔ایسی ہی ایک حکایت بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے تین آدمی سفر کیلئے نکلے رات انہیں ایک غار میں بسر کرنی پڑی وہ اس کے اندر آرام کر رہے تھے کہ پہاڑ سے ایک چٹان لڑھک کر غار کے منہ پر آ گئی اور وہ اندر بند ہو گئے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس مصیبت سے دعا کے سوانجات کی کوئی اور صورت نہیں۔انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ آؤ اپنے اپنے بعض نیک اعمال کا حوالہ دیکر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ان تینوں میں سے ایک نے یہ واقعہ بیان کیا کہ میرے ماں باپ ضعیف العمر تھے اور میں اپنے اہل وعیال اور مال مویشی کو ان سے پہلے کچھ کھانا پلانا حرام سمجھتا تھا۔ایک دن باہر سے چار لانے میں مجھے دیر ہوگئی اور شام کو جلدی والدین کے سونے سے پہلے نہ آسکا۔جب میں نے ان کیلئے دودھ دوہا اور ان کے پاس لایا تو ان کو سویا ہوا پایا تب میرے دل نے ان کو جگانا پسند نہ کیا اور نہ میں نے چاہا کہ ان کو کھلانے پلانے سے پہلے اپنے اہل وعیال اور مال مویشی کو کھلاؤں۔پس دودھ کا پیالا اپنے ہاتھ میں پکڑے میں اس انتظار میں کھڑا رہا کہ وہ بیدار ہوں تو ان کو دودھ پلاؤں اس انتظار میں صبح ہوگئی تب میں نے اپنے والدین کو دودھ پلا دیا پھر اپنے اہل و عیال کو بھی اور مویشیوں کو بھی چارہ ڈالا۔اے خدا اگر میں نے سب کچھ خالص تیری رضا کیلئے کیا تھا تو اس چٹان کو ایک طرف سرکا دے۔جب اس نے یہ واقعہ بیان کیا تو پتھر 1/3 سرک گیا اور اتنا رستہ بن گیا کہ باہر سے روشنی اندر آنے لگی۔