عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 117
اسلامی جہاد کے متعلق غلط فهمی 117 نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ کو تو یقینا ہے۔درج ذیل حدیث اس دعوے کی مزید تائید کرتی ہے۔حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگ پر روانہ فرمایا۔راستہ میں ایک ایسے کافر سے ہماری مڈ بھیڑ ہوگئی جو جنگل میں چھپا رہتا اور جب کبھی کہ مسلمان کو تنہا پاتا تو حملہ کر کے اسے شہید کر دیتا تھا۔بالآخر جب میں نے اس پر قابو پالیا اور اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے فوراً کلمہ توحید لا اله الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پڑھ لیا یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے رسول ہیں۔بالفاظ دیگر اس نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔تاہم میں نے اُس کے اس دعوے کو تسلیم نہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔جب میں نے یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیرت و استعجاب سے فرمایا کہ: کیا کلمہ پڑھ لینے کے باوجود تم نے اُسے قتل کر دیا میں نے عرض کیا ! جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔اس پر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب قیامت کے دن کلمہ تمہارے خلاف گواہ بن کر کھڑا ہو جائے گا میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بار بار عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو موت کی وجہ سے ایمان لایا تھا۔لیکن ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ: " کیا تم نے اُس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جارہے تھے کہ : اُس کا کلمہ تمہارے خلاف گواہ بن کر کھڑا ہو گا تو تم اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دو گے؟“ حضرت اُسامہ بن زید فرماتے ہیں کہ میرے دل میں بڑی شدت سے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا کہ مجھ سے یہ فعل سرزد ہوتا۔‘ (14) یہ قرآنی بیان کہ دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں، اگر چہ بہت مختصر ہے لیکن اپنے معانی کے اعتبار سے اتنا جامع اور اپنے اطلاق کے لحاظ سے اس قدر دور رس اثرات کا حامل ہے کہ اس کا بغور مطالعہ انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔اس کی تشریح یوں کی جاسکتی ہے کہ نہ تو کسی شخص کو دوسروں کے خلاف طاقت استعمال کرنے کی اجازت ہے اور نہ یہ آیت مظلوم کو جبر کے سامنے سر جھکانے کی اجازت دیتی ہے۔اعلیٰ درجے کا