عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 84
84 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول پھر اس مضمون کو مزید کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ رسول ہے جس کو ہم نے ساری دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجا ہے اس لئے اس کا نور کسی ایک قوم یا علاقے تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام بنی نوع انسان کیلئے ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: اللَّهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ المِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِيٌّ يُوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبْرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ (النور36:24) عليمه ترجمہ: اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو۔وہ چراغ شیشے کے شمع دان میں ہو۔وہ شیشہ ایسا ہو گویا ایک چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے۔وہ (چراغ ) زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو جو نہ مشرقی ہو نہ مغربی۔اس (درخت) کا تیل ایسا ہے کہ قریب ہے کہ وہ از خود بھڑک کر روشن ہو جائے خواہ اسے آگ کا شعلہ تک نہ چھوا ہو۔یہ نور علی نور ہے۔اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کیلئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا دائمی علم رکھنے والا ہے۔پس بانی اسلام حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی امتیازی شان کو اس آیت نے اللہ کے نور کی تمثیل کے طور پر پیش فرمایا جو اپنے تعلقات اور ترجیحات میں نہ مشرق کی طرف جھکا ہوا ہے نہ مغرب کی طرف اور اسی مضمون کو مزید کھولتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سراج منیر بھی رکھا گیا یعنی ایسا سورج جو سب کو برابر روشنی پہنچاتا ہے۔سورج بظاہر منبع نور دکھائی دیتا ہے لیکن گہرے تدبر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی روشنی دراصل اس کے خالق کی عطا ہے جس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نور کا اصل مبداء ذات باری تعالیٰ ہی ہے اور انبیائے کرام مخلوق خدا تک اس کا نور پہنچانے میں محض سورج کا کردار ادا کرتے ہیں۔اجرام فلکی میں روشنی کے بہت سے سرچشمے ہیں جن میں زمین کے حوالے سے سورج کو ایک منفرد مقام حاصل ہے