عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 53
انسانی جسم کا اندرونی توازن 53 میں سست روی بھی ہوتا ہے جو اعصاب کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچائے جاتے ہیں۔روزمرہ کے تجربات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ذیا بیطس کے بعض مریض اس در دکو محسوس نہیں کر سکتے جو دل کے کھچاؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔چنانچہ خطرہ کی ان گھنٹیوں پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے انہیں اچانک دل کا دورہ بھی پڑسکتا ہے۔پس عدل کے توازن کی باتیں کرنا محض ایک علمی لذت کا حصول نہیں ہے۔کارخانہ قدرت میں عدل کے مستقل فقدان یا اس کے عدم توازن کی بالعموم سزا ملتی ہے۔افسوس! که انسان اس سبق کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے اور اس دھو کے میں مبتلا رہتا ہے کہ وہ عدل کو قائم ند رکھ کر بھی اس کے بدنتائج سے بچ سکتا ہے۔اس موضوع پر ہم آئندہ صفحات میں بات کریں گے۔بیماری کے خلاف حفاظتی تدابیر: اب ہم تو ازن کی بعض اور مثالوں کو لیتے ہیں جو ایک صحت مند زندگی کے قیام کیلئے اللہ ہ نے پیدا فرمایا ہے۔صرف انسان ہی نہیں بلکہ دیگر بے شمار انواع حیات بھی اسی محکم اور غیر متبدل اصول توازن کے تابع ہیں۔چنانچہ جہاں کہیں دانستہ یا نادانستہ اس قانون کی خلاف ورزی ہوگی و ہیں بیماری ضرور نمودار ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے احسانِ عظیم کے طور پر انسانی جسم کو ایسا نظام بھی عطا کر رکھا ہے جو اسے مختلف صدمات سے بچاتا اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔یہ نظام صرف عدل کے دائرہ سے ہی تعلق نہیں رکھتا بلکہ ایک زائد انعام ہے جو بغیر کسی محنت کے خاص رحمت سے اسے عطا ہوا ہے۔ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ انسانی کمزوریوں، حد سے زیادہ غفلت اور حادثات کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے تلافی کا ایک مکمل نظام اسے فراہم کر رکھا ہے۔انسان کے شعوری نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اس میں احسان زیادہ کارفرم دکھائی دیتا ہے جس پر قبل از میں کسی حد تک بحث گزرچکی ہے۔احسان اور ایتا ء ذی القربی کے ذریعے جو کچھ انسان کو ملتا ہے وہ عدل سے بلند تر ہے۔مثلاً اگر انسان کو اس کی روز مرہ کی غذائی ضروریات کیلئے غذا کو ہضم کرنے والی رطوبتیں فراہم کر دی جاتیں تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ہر جاندار صرف اتنا ہی کھا سکتا جتنی ضرورت ہوتی۔اس صورت میں اس کیلئے زائداز ضرورت کھا سکنے کی کوئی گنجائش نہ ہوتی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے جانداروں کے ساتھ انتہائی احسان کا یہ سلوک فرمایا ہے کہ زائد از ضرورت جو غذا بھی وہ استعمال کرتے ہیں وہ چربی کی صورت میں محفوظ ہو جاتی ہے جو خوراک کی قلت کے وقت اس کی زندگی کو قائم رکھنے کے کام آتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ضرورت سے زیادہ چربی ایک بوجھ ہے لیکن ہر جاندار کو اپنی بقا کیلئے مناسب مقدار میں چربی