عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 30

30 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول بات یہ ہے کہ کل پانی کا پچھتر فیصد حصہ شمالی نصف کرہ کے پہاڑوں پر برف کی صورت میں جا پڑا ہے۔اگر پہاڑ اس جھے ہوئے پانی کو ذخیرہ نہ کریں اور یہ ساری برف پکھل کر سمندروں میں شامل ہو جائے تو باقی ماندہ میں فیصد خشکی بھی مکمل طور پر پانی میں ڈوب جائے گی اور ساری سطح زمین کو سمندر ڈھانپ لیں گے۔زمین پر پانی کے توازن کو برقرار رکھنے میں پہاڑ بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اسی طرح انسانوں اور پودوں کے استعمال کیلئے پانی کی تطہیر میں بھی پہاڑوں کا کردار بہت اہم ہے۔یہ ایک لمبی داستان ہے کہ کس طرح پانی سمندروں سے پہاڑوں پر جاتا اور پھر واپس سمندروں میں آتا ہے تاہم اس سارے چکر کے نتیجہ میں زمین پر موجود نباتاتی اور حیوانی زندگی کیلئے یہ پانی استعمال ہوتا ہے اور آلودہ پانی بہ کر سمندروں میں شامل ہو جاتا ہے۔آبی بخارات کے پانی یا برف بن کر نیچے گرنے کے عمل میں بھی پہاڑ ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔قطبین اور بلند پہاڑی علاقوں میں اکثر آبی بخارات بارش کی بجائے برف بن کر گرتے ہیں اور پھر برف کی سخت سلوں اور گلیشئر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔برف کے ان بڑے بڑے پہاڑوں پر کشش ثقل مسلسل کام کر رہی ہے جو برف کی اس توانائی کو جو بلندی پر ہونے کی وجہ سے اس میں ہوتی ہے، کم کرتی رہتی ہے۔یہ ایک طبعی قانون ہے کہ جب برف کو زور سے دبایا جائے تو جہاں دباؤ سب سے زیادہ ہو گا وہاں درجہ حرارت بڑھ جائے گا جس کے نتیجہ میں برف پگھلنا شروع ہو جائے گی۔ایسی جگہوں پر جہاں درجہ حرارت منفی 600 تک گر جاتا ہے وہاں بھی گلیشئر ز کے نیچے برف ہمیشہ پھلتی رہتی ہے۔چنانچہ گلیشئر جہاں پہاڑ کی سطح سے جڑا ہوتا ہے وہاں درجہ حرارت بڑھنے سے وہ پکھلنے لگتا ہے نیچے پہاڑ پر اس کی گرفت مضبوط نہیں رہتی اور وہ نیچے پھیلنے لگتا ہے اور اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھروں اور چٹانوں کو گھسیٹتا، رستے میں حائل تمام رکاوٹوں کو تہس نہس کرتا چلا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں بڑے بڑے پتھر اور چٹانیں بے شمار چھوٹے چھوٹے پتھروں اور سنگریزوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔اس عمل سے نمک بھی حاصل ہوتا ہے۔اگر یہ مذکورہ بالا قانون نہ ہوتا تو سمندروں کا سارا پانی برف بن کر قطبین اور پہاڑوں پر اکٹھا ہو جاتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ بالآخر بنی نوع انسان صفحہ ہستی سے کلیہ نابود ہو جاتے۔پہاڑ زندگی کیلئے اس طرح بھی ایک سہارا ہیں کہ یہ زمین کی زرخیزی میں مختلف طریق سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یادر ہے کہ زمین کی زرخیزی کیلئے جو مصنوعی کھادیں استعمال کی جاتی ہیں وہ