عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 29
زمین کا ماحولیاتی نظام فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ هُذَا خَلْقُ اللهِ فَأَرُونِي مَا ذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ بَلِ الظَّلِمُونَ فِي ضَللٍ مُّبِينِ ) (لقمان 11:31 و12) ترجمہ: اس نے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے بنایا جنہیں تم دیکھ سکو اور زمین میں پہاڑ بنائے تا کہ تمہیں خوراک مہیا کریں اور اس میں ہر قسم کے چلنے والے جاندار پیدا کئے اور آسمان سے ہم نے پانی اتارا اور اس (زمین) میں ہرفتم کے عمدہ جوڑے اگائے۔یہ ہے اللہ کی تخلیق پس مجھے دکھاؤ کہ وہ ہے کیا جو اس کے سوا دوسروں نے پیدا کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ظلم کرنے والے کھلی کھلی 29 29 گمراہی میں ہیں۔یہاں پہاڑوں کیلئے رواسی“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں، مضبوطی سے گہری گاڑی ہوئی چیز۔عرب پہاڑوں کیلئے یہی لفظ استعمال کیا کرتے ہیں۔قرآن کریم کے اکثر تراجم میں پہاڑوں کے تعلق میں تَمِیدَ بِكُمْ “ کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ ان کی تخلیق کا مقصد بنی نوع انسان کو زلزلوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔زلزلوں کے اکثر مراکز سطح زمین سے بلند پہاڑوں میں ہی واقع ہیں یا پھر سمندر کی تہوں میں آتش فشاں پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایسا ترجمہ کرنا جو اس کے فعل یعنی تخلیق سے متصادم ہو منا سب نہیں۔در اصل تَمِيدَ بِكُمْ کا لفظ مادَ يَمِيدُ سے مشتق ہے جس کے ایک معنی کھانے کیلئے دستر خوان کی تیاری ہے۔اس معنی کی رو سے ترجمہ یہ ہونا چاہئے: ”ہم نے مضبوطی سے گڑے ہوئے پہاڑوں کو پیدا کیا تا کہ وہ تمہارے لئے خوراک مہیا کرنے کا ذریعہ ثابت ہوں۔“ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو اس لئے پیدا نہیں فرمایا کہ یہ بنی نوع انسان کو زلزلوں سے محفوظ رکھیں بلکہ زندگی کے قیام کا انحصار انہی پہاڑوں پر ہے۔غذا مہیا کرنے کا نظام جو زندگی کیلئے ضروری ہے انہی کے سہارے قائم و دائم ہے اور لفظ موزون کی بہترین تصویر پیشی ہے۔سطح ارض کا صرف تین فیصد حصہ خشکی پر مشتمل ہے جو پانچ براعظموں میں منقسم ہے۔باقی ستر فیصد سمندروں اور جھیلوں پر مشتمل ہے لیکن جو پانی ہم دیکھتے ہیں صرف یہی نہیں ہے بلکہ حیرت انگیز