عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 266
266 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی جانور تو محض اپنے وجدان کے تابع ہوتے ہیں لیکن انسان جسم سے غیر ضروری مادوں کے اخراج کا بھی ایک مکمل کھانے پینے میں اپنا رویہ خود پسند کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔36 نظام ہے۔اسکی تشریح اور ذیا بیٹیس کی مثال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔50 انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ حیوانی میلان ارتقاء میں زیادہ ہر سات سال میں انسانی جسم کے تمام خلیات انتہائی پیچیدہ پختہ ہوتا چلا گیا نظام کے تحت تبدیل ہو جاتے ہیں۔اسکی تفصیل۔۔۔۔۔59 35 انسان سے پہلے کی حیوانی زندگی کا انسان کی زندگی سے مابہ انصاف الامتياز۔14 صحت میں انسان متکبر ہو جاتا ہے اور بیماری آنے پر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسکا اصل سہارا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے 61 صحیح انتخاب سے انسان ترقی کرتا ہے ورنہ وہ قعر مذلت میں 38 ظالم قوم پر غلبہ کے بعد اس سے انصاف کر۔۔۔۔۔۔انعام کا استحقاق 235 انسان انعام کا مستحق تبھی ہوتا ہے جب اسے انتخاب کا اختیار ہو۔درست انتخاب کیلئے الہی رہنمائی کی ضرورت۔۔۔۔37 گر جاتا ہے قرآن کریم کے نزدیک انسان کی بقاء اسکی اخلاقیت پر مبنی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔172۔مومنوں کا انفاق فی سبیل اللہ کا طریق۔۔کامل دفاعی نظام انسان کو ابدیت عطا نہیں کر سکتا۔اسکا انفرادی معاہدات تفصیلی ذکر۔48 202۔۔۔۔۔۔انفرادی معاہدات جنکا تعلق بندہ اور خدا سے یا بندوں کے انسانی زندگی کی ہر سطح پر رد اور چناؤ کا عمل جاری ہے۔بندوں کے ساتھ انفرادی طور پر باندھے ہوئے عہدوں سے وضاحت کیلئے ایک مثال۔47 انسانی تعلقات کے تین مدارج کی تفصیل سورۃ النحل 91:16 5۔انسانی طبقات کے حقوق کے متعلق قرآنی آیات اور ارشادات نبوی۔انسانی جسم انسانی جسم اربوں خلیات پر مشتمل ؟ 223۔44 ہے۔اسکا ذکر سورۃ الاحزاب آیت 24 میں ہے۔۔۔203 انفرادی معاہدہ اور عہد شکنی کی سزا کا ذکر (التوبہ (77075:9 اولاد 205 اللہ تعالیٰ نے اولاد کے حقوق کی ادائیگی پر جزا کا وعدہ دیا ہے۔حدیث میں دو مثالیں 247۔اولاد کی گندی تربیت اور کمی رزق کے خوف سے منصوبہ جسمانی افعال قرآنی بیانات کی تصدیق کرتے ہیں۔بندی ان کا قتل ہے 245 بیماری کارجحان دو بیماریوں کے خلاف دماغی صلاحیت آنحضرت ﷺ نے عدل سے بڑھ کر بچوں سے احسان کی 48 تعلیم دی۔249 حیرت انگیز ہے۔جسمانی نشوو نما کی وضاحت کیلئے دانت کی نشوونما کا مطالعہ 49 اولا د کو کوئی فائدہ پہنچانے کے لحاظ سے اپنی اولاد میں عدل انسانوں میں کیلشیم کی کمی بیشی کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے 57 کرنا چاہیئے اس ضمن میں ایک حدیث۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔247