عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 227
قول عدل میں 227 قول عدل کی تیسری خصوصیت : پھر قول کے عدل میں ایک مزید حسن پیدا فرما دیا اور صرف قول کے عدل کی بات نہیں کی بلکہ اس کو مزید حسین بنانے کی بھی تعلیم دی۔فرمایا۔وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ( حم السجدہ 34:41) اور بات کہنے میں اس سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک اعمال بجالائے اور کہے کہ میں یقیناً کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔اس آیت میں دو باتیں بیان فرمائیں۔اول یہ کہ سب سے اچھی بات کی طرف بلانے سے قول میں حسن پیدا ہو جاتا ہے جتنی زیادہ اچھی بات کی طرف تم بلاؤ گے اتنا زیادہ تمہارا قول حسین ہوتا چلا جائے گا۔پس اللہ سے بہتر اور کیا چیز ہوسکتی ہے جسکی طرف بلایا جارہا ہو۔خدا کی طرف بلانے والے سب سے بچے اور سب سے زیادہ حسین بات کرنے والے ہیں لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ ان کا عمل بھی اس سچی بات پر ہونا چاہیے ورنہ قول حسین نہیں ہوسکتا۔ویسے تو ہر آدمی کہہ سکتا ہے کہ دنیا میں لاکھوں کروڑوں ایسے ہیں جو خدا کی طرف بلاتے ہیں پس ان کا قول بھی تو قول حسن ہوگا۔وہ کیا فرق ہے کہ جس کو اسلام نے ہمیں سکھایا ہے؟ فرمایا فرق یہ ہے کہ اچھی بات کی طرف بلانے والا اس پر عمل بھی کرتا ہو۔یہ نہ ہو کہ خدا کی طرف بلانے والا ہو اور شیطان کی صفات اس سے ظاہر ہورہی ہوں۔پس قرآن کریم نے جو تعلیم دی ہے اسے خوب کھول کھول کر بیان کیا اور اس میں ایک نہایت حسین توازن پیش فرما دیا اور یہ تو ازن خود عدل کی علامت ہے۔قول عدل کی چوتھی خصوصیت: پھر قول عدل کے نتیجہ میں معاشرہ کی اصلاح کا راز سکھایا۔فرمایا: ط يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صاف سیدھی بات (الاحزاب 71:33-72) کیا کرو۔وہ تمہارے لئے تمہارے اعمال کی اصلاح کر دے گا اور تمہارے