عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 226 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 226

226 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربى - حصه چهارم دنیا کے پردہ پر آپکو اس قسم کے سودے کی مثال نظر نہیں آئے گی۔ہاں بعض دفعہ ماں باپ اپنے کسی پیارے بچے سے بظاہر اپنی ایک چیز خریدتے ہیں اور پھر قیمت ادا کرنے کے بعد وہ چیز بھی اسے واپس کرتے ہیں۔یہ خاص اظہار محبت کا سلوک صرف ایتا ء ذی القربی میں دکھائی دے گا۔پس بلاشبہ حضرت اقدس رسول اللہ ﷺ کا مالی لین دین صرف کامل انصاف پر ہی مبنی نہیں ہوتا تھا بلکہ اس سے بڑھ کر اس میں احسان اور ایتاء ذی القربی کے جلوے دکھائی دیتے ہیں۔قول عدل کی دوسری خصوصیت : قرآن کریم نے قول عدل کی ایک اور تفسیر بھی فرمائی ہے۔فرمایا: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (الاحزاب 71:33 اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تقوی اختیار کرو اور صاف اور سیدھی بات کہو۔قول سدید سے مراد یہ ہے کہ ایسی بات جس میں کو ئی بھی غلط جھکاؤ نہ ہو، عین درست بات ہو اور اس میں قطعاً کسی قسم کی کوئی بھی نہ ہو۔بسا اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک بات بچی تو ہوتی ہے اس میں اس کے باوجود بل پڑے ہوئے ہوتے ہیں اور بات سچی ہوتے ہوئے بھی کسی دوسرے کو دھو کہ میں مبتلا کر سکتی ہے پس آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے جو تعلیم سکھائی وہ یہ تھی کہ محض سچ قول عدل نہیں ہے۔ایسا صاف ستھرا سچ بولو کہ مخاطب کیلئے کسی قسم کی کوئی غلط فہمی کا سوال باقی نہ رہے لیکن اس کے ساتھ ایک اور بھی خطرہ سے متنبہ فرما دیا۔بعض لوگ قول عدل کا مطلب یہ لے لیتے ہیں کہ کسی مخالف سے سچ کے نام پر سختی سے بات کی جائے جس بات کو وہ سچا سمجھتے ہیں اسے منہ پر مارا جائے۔قرآن کریم جس قول کو قولِ عدل کہتا ہے اس میں منہ پر مارنے والا کوئی تصور موجود نہیں بلکہ خود اس غلطی کی اصلاح فرماتا ہے۔چنانچہ فرمایا۔إِذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى فَقُوْلَا لَهُ قَوْلًا لَّيْنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَرُ (45-44:20) أوْ يَخْشُى کہ اے موسیٰ اور ہارون تم فرعون کے دربار میں جانے والے ہو سچ تو تم بہر حال کہو گے قول سدید سے کام لو گے اور اس میں کوئی شک نہیں لیکن قول لینا یعنی نرم بھی ہونا چاہئے اور قول کا بچے اور سیدھے ہونے کے علاوہ نرم ہونا احسان سے تعلق رکھتا ہے۔قول سدید کے ساتھ لینا کو ملا کر اسکی تلخی کو دور فرما دیا۔