عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 178 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 178

178 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم پیش کرتے ہیں جو ٹیڑھی عقل کا ہو یا بددیانت ہو تو وہ آسمیں کئی قسم کی مین میخ نکالتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قبول کرنے کے لائق نہیں۔حالانکہ وہ شہادت جھوٹی نہیں ہوتی ، وہ حج جھوٹا ہوتا ہے۔پس قرآن کریم یہی مضمون بیان فرما رہا ہے کہ ہم عمداً ایسے لوگوں کو اس لئے بھٹکنے دیتے ہیں کہ وہ ہیں ہی گندے، جھوٹے اور ظالم۔وہ شہادت سے استفادہ کرنے اور ہدایت پانے کے اہل ہی نہیں۔دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جس طرح انبیاء کے ماننے والوں کو جس بے رحمی سے مارا کوٹا جاتا ہے اور جس رنگ میں ان پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں کیا کبھی انبیاء اور ان کے ماننے والوں کی طرف سے بھی ایسا ہی سلوک ان کے مخالفین اور برے اعمال بجالانے والوں کے ساتھ کیا گیا؟ اس سوال کا جواب ہمیشہ یہی ہوگا نہیں ، ہر گز نہیں“۔یہ سلوک ہمیشہ جھوٹوں نے بچوں سے کیا ہے اور کبھی بھی بچوں نے جھوٹوں سے نہیں کیا۔یہ مراد ہے شھود سے کہ وہ اپنے کردار پر خود گواہ بن جاتے ہیں۔ایسی بیہودہ حرکتیں کرتے ہیں، مخالفت کے ایسے ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جو اس سے پہلے ہمیشہ جھوٹے سچوں کیخلاف کیا کرتے تھے۔چنانچہ اس کی ایک گواہی پاکستان میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس طرح ظاہر ہوئی کہ کوئٹہ کی عدالت میں جب کلمہ شہادت پڑھنے کے جرم میں مقدمہ چل رہا تھا تو احمدی وکیل نے وہاں کے جو ملاں بزعم خود ختم نبوت کے سربراہ تھے ، ان سے یہ سوال کیا کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ جو سلوک کلمہ شہادت سے متعلق آج آپ احمدیوں سے کر رہے ہیں حضرت اقدس محمد مصطفی امیے کے زمانہ میں یہ سلوک کون کس سے کیا کرتا تھا؟ انہوں نے جواب لکھوایا جو عدالت کی مہر کا تصدیق شدہ ہمارے پاس موجود ہے کہ میں جانتا ہوں کہ اس زمانہ میں کلمہ پڑھنے والوں سے یعنی حضرت محمد اللہ اور آپ کے غلاموں سے مشرکین مکہ یہ سلوک کیا کرتے تھے۔ایک مسلمہ اصول جس کا اطلاق ایسے تمام معاملات پر ہوتا ہے جہاں شہادت قبول یارڈ کی جاتی ہے: سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۳ بہت جامع آیت ہے جس کا تعلق ایسے تمام حالات سے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة 3:2) یہ ایک کامل کتاب ہے۔اس میں کوئی شک نہیں، یہ متقیوں کو ہدایت دینے والی ہے۔