عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 148

148 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا كَوْنُوْا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ( النساء 4 : 136) ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔عدل اور احسان کی اس سے اعلی تعلیم کا تصور بھی ممکن نہیں۔یہ اسی تعلیم کا نتیجہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت تھی جس نے صحابہ کو اس اعلیٰ وارفع مقام پرفائز کر رکھا تھا کہ گواہی دیتے وقت خونی رشتوں اور ذاتی تعلقات کو پس پشت ڈال دینا ان کا معمول بن چکا تھا جس کی تائید میں کئی ایک واقعات پیش کئے جا سکتے ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ارشادات عالیہ نے آج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی اور کامل غلاموں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ان میں سے ایک کامل ترین غلام بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔درج ذیل واقعہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مرزا سلطان احمد صاحب حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ الصلوۃ والسلام کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔وہ آزادانہ نقطہ نظر رکھتے تھے۔چنانچہ انہوں نے اپنے والد ماجد کی حیات طیبہ میں احمدیت قبول نہیں کی لیکن بعد میں خلافت ثانیہ کے دور میں اپنے چھوٹے بھائی ( حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔مترجم) کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔خاندانی جائیداد کا نظم و نسق انہی کے ہاتھ میں تھا۔ایک مرتبہ انہوں نے قادیان کے ایک ہندو کے خلاف زمین کے ایک ٹکڑے پر ناجائز قبضہ کرنے پر مقدمہ کر دیا اور عدالت میں درخواست کی کہ اس پر تعمیر شدہ عمارت کو مسمار کرنے کی اجازت دی جائے۔یہ حقیقت تھی کہ یہ قطعہ اراضی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آبائی جائیداد کا حصہ تھا لیکن وکیل استغاثہ نے مقدمہ تیار کرتے ہوئے ایک چھوٹی سی دفعہ میں ایک جھوٹا جوابی دعوی شامل کر دیا جو بہر حال ایک غلطی تھی۔مقصد یہ تھا کہ مقدمہ کو مضبوط کیا جا سکے لیکن اگر مدعا علیہ اس جھوٹے جوابی دعوے کو باطل ثابت کر دیتا تو مقدمہ لازماً خارج ہو جاتا۔عدالت نے اس مقدمہ میں مدعا علیہ کی طرف سے حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کو بطور گواہ طلب کیا۔مدعا علیہ کو یقین تھا کہ آپ جھوٹی گواہی کبھی بھی نہ دیں گے خواہ آپ کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے۔استغاثے کے وکیل نے آپ سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ آپ گواہی