عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 3

تمهيد 3 آج صبح جب میں نماز کیلئے نکلا تو بارش کے نمایاں آثار دیکھ کر معامیں نے اپنے دل کو ٹولا کہ کہیں میرے دل میں خدا نخواستہ کسی قسم کا کوئی شکوہ تو راہ نہیں پا گیا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ آج جلسہ سالا نہ کا دن تھا اور بارش کے تیور بظاہر ایسے تھے کہ اگر یہ پورے زور سے جم کر برسنے لگتی تو جلسہ یقیناً درہم برہم ہو جاتا اور اس کے انعقاد کی کوئی صورت نہ رہتی۔لیکن دل سے بے اختیار حد نکلی کیونکہ دل کے کسی گوشے میں بھی شکوے کا شائبہ تک نہیں تھا بلکہ شکر ہی شکر تھا۔معا میری طبیعت حمد کے ساتھ محسن اعظم ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی طرف مائل ہوئی۔قرآن کریم ہمارے اندر خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری کی روح پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے کامل فرمانبردار بندوں کی زیادہ سنتا ہے اور ان پر بے شمار فضل نازل کرتے ہوئے انہیں نیکیوں میں آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔اس بات کو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک نظم میں بڑے حسین پیرائے میں یوں بیان فرمایا ہے کہ: ہو فضل تیرا یا رب! یا کوئی ابتلا ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو یہی مضمون قرآن کریم میں ایک مختلف پیرایہ میں یوں بیان ہوا ہے: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (یوس 63:10) ترجمہ: سنو کہ یقینا اللہ کے دوست ہی ہیں جن پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ہم پر اللہ تعالیٰ کا بے پایاں احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایسی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے جس کے افراد ہمیشہ رضائے باری تعالیٰ پر راضی رہتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے عاجز بندوں کی حفاظت اسی حکمت کی بدولت ہے۔اگر لوگ پوری طرح راضی برضا ر ہیں گے تو وہ الہی نظام کے زندہ نشان بن جائیں گے۔نہ تو وہ مغلوب ہوں گے اور نہ ہی ہلاک کئے جائیں گے۔بعض دیگر جذبات نے بھی میرا دل حمد باری تعالیٰ سے بھر دیا جن میں سے ایک ہماری جماعت کا غیر معمولی اخلاص ہے۔میں جانتا ہوں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت قربانی پیش کرنے والی ایسی جماعت ہے کہ اگر اس کا امام انہیں کہے کہ آؤ اور برستی بارش میں بیٹھ جاؤ تو وہ