عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 131

عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربیٰ کا مقام 131 کوئی متبادل مقرر نہ فرمایا ہوتا تو ہوسکتا تھا کہ چرچ کا رخ نہ کرنے والے عیسائیوں کی طرح مسلمانوں کی روزمرہ زندگی سے بھی نمازیں بکلی غائب ہو چکی ہوتیں۔عبادت میں عدل کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انفرادی اور اجتماعی نمازوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔انفرادی نمازیں تقریباً تمام با جماعت فرض نمازوں کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں۔ایک اور قابل ذکر حقیقت یہ بھی ہے کہ نماز با جماعت مردوں کی طرح عورتوں پر بھی فرض کر دی جاتی تو ان پر ایک نا قابل برداشت بوجھ پڑ جا تا کیونکہ وہ بالعموم گھر کی نگرانی اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔اس صورت میں ایک چھوٹا بچہ جسے مسلسل نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے اس کی ماں کو بھی مسجد جانا پڑتا جو کہ ماں اور بچہ دونوں کے ساتھ ظلم ہے اور عدل کے تقاضوں کے برخلاف۔یہ اسلامی تعلیمات میں پائے جانے والے توازن کی ایک نہایت عمدہ مثال ہے۔بعض دیگر حالات مثلاً حیض یا خون نفاس کے ایام میں خواتین کو انفرادی اور اجتماعی تمام عبادات سے مکمل رخصت دے دی گئی ہے۔عبادت کی ایک اور خصوصیت اسے بآواز بلند یا خاموشی سے ادا کرنے کا اختیار بھی ہے۔انسانی مزاج صبح سے شام تک اور پھر رات کے بعد صبح تک ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔صبح اور شام نیز رات کی گھڑیاں بہت سے لوگوں میں گنگنانے کا میلان پیدا کرتی ہیں۔دن کے درمیانی حصہ یعنی زوالِ آفتاب سے لے کر سہ پہر تک پرندے بھی چہچہانا بند کر دیتے ہیں۔یہ وقت سکوت اور قیلولہ کا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ روزانہ پانچ میں سے تین نمازوں میں قِرَاءَتْ بِالْجَهْرِ رکھی گئی ہے اور باقی دو نمازیں خاموشی سے ادا کی جاتی ہیں۔اسی طرح ان تینوں نمازوں کے کچھ حصے میں بلند آواز کی اجازت ہے جبکہ باقی حصے خاموشی کے متقاضی ہیں۔مزاجوں کی تبدیلی کا تعلق صرف اوقات کی تبدیلی سے ہی نہیں بلکہ مختلف لوگوں کے مزاج بھی مختلف ہوتے ہیں۔چنانچہ سب کے مناسب حال احکام ہیں۔نماز تہجد کے متعلق حکم بالکل منفرد انداز رکھتا ہے۔اس نماز کیلئے یہ لازمی قرار نہیں دیا گیا کہ صرف دل میں پڑھی جائے یا ضرور بلند آواز سے قرآت کی جائے بلکہ دونوں کے مابین رستہ اختیار کیا جاسکتا ہے جیسا کہ فرمایا: وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا