عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 116

116 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم ہر قسم کے حالات میں یہی اصول ایک منافق کے طرز عمل پر بھی اطلاق پاتا ہے۔اس مضمون کو سورۃ المنافقون کی مندرجہ ذیل ابتدائی آیات میں خوب کھول کر بیان کیا گیا ہے: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَ اللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَكَذِبُونَ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ ) (المنافقون 1:63 تا 3) ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا ، بن مانگے دینے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ضرور تو اللہ کا رسول ہے۔اور اللہ جانتا ہے کہ تو یقینا اس کا رسول ہے۔پھر بھی اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق یقینا جھوٹے ہیں۔انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔پس وہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔یقیناً بہت برا ہے جو وہ عمل کرتے ہیں۔یعنی وہ اپنے اس دعوے کے لبادے میں اپنے منافقانہ بد ارادوں کی تکمیل چاہتے ہیں۔اول یہ کہ جنگ کے سنگین حالات میں اپنے تئیں مسلمانوں سے محفوظ رکھ سکیں۔دوم یہ کہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر سکیں۔لیکن اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ ان کو اس بات کا دعویٰ کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیں جو در حقیقت ان کے دلوں میں موجود نہ تھا۔انہیں پھر بھی یہ حق دیا گیا کہ وہ خود کو مسلمان کہیں۔آج ہم دنیا کے مختلف مسلم ممالک میں یہ تضاد دیکھتے ہیں کہ وہاں نہ صرف دین کے معاملہ میں جبر کی تعلیم دی جارہی ہے بلکہ اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کیا جا رہا ہے۔ملاں دیکھتے ہیں کہ ایک شخص خود کو مسلمان کہتا، کلمہ پڑھتا اور دیگر مسلمانوں کی طرح قبلہ رو ہو کر نماز بھی ادا کرتا ہے پھر بھی وہ اسے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک کسی کو ز بر دستی ان کے دین سے منحرف کر دینا نیکی کا کام ہے حالانکہ در حقیقت یہ قرآن کریم کی واضح تعلیمات اور حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے کھلی کھلی بغاوت کے مترادف ہے لیکن انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔جز اسرا کے دن یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا سامنا کس طرح کریں گے؟ انہیں تو شاید اس بات کی چنداں پر واہ