عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 90

90 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول تمام حدود و قیود سے بالا ہونا چاہئے۔ورنہ اس کا آفاقی ہونے کا دعوی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔اس پہلو سے جب ہم قرآن کریم کی تعلیم کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تعلیم اس دعوے کی بھر پور تائید کرتی ہے۔سب سے اہم اور بنیادی دلیل جو اس سلسلے میں پیش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ دینِ اسلام فطرت انسانی سے کامل ہم آہنگی رکھتا ہے یعنی یہ وہ دین ہے جو کسی خاص دوریا مخصوص قوم کو سامنے رکھ کر تشکیل نہیں دیا گیا بلکہ یہ فطرت انسانی سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ظاہر ہے کہ فطرت انسانی ہر جگہ ایک ہی رہتی ہے اور نسلی اور طبقاتی تقسیم اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔اسی طرح بنیادی انسانی صفات وقت گزرنے کے ساتھ بھی تبدیل نہیں ہوتیں۔آج سے دس ہزار سال قبل کا پسماندہ انسان بھی وہی فطرت رکھتا تھا جو آج کا نسبتاً ترقی یافتہ انسان رکھتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّيْنُ الْقَيْمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (الروم 31:30) ترجمہ: یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا۔اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔یہ قائم رکھنے اور قائم رہنے والا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت کو جس سانچے میں ڈھالا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر چیز کے معین خدو خال ہیں اور اس کی ایک خاص پہچان ہے۔چنانچہ ہر نوع حیات، ہر گروہ اور ہر صنف اسی قانون کے تابع ہے اور کوئی بھی اس سے مستی نہیں۔جب تک کوئی نوع اپنی تخلیق کے مخصوص مقصد تک محدود رہتی ہے، اس کے پاس اس طرز عمل پر چلنے کے سوا کوئی متبادل رستہ نہیں ہوتا جو اس کیلئے بنایا گیا ہے۔جب اس کا کردار بدلنا شروع ہوتا ہے تو یہ بھی نظام قدرت کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔دراصل بعض صفات میں تبدیلی کے اس تدریجی عمل کے ذریعے ادنی انواع سے اعلیٰ انواع میں منتقلی کی تیاری ہورہی ہوتی ہے۔یہ بھی فطرت کے نظام کا ایک حصہ ہے۔اس اعتبار سے بنیادی نظام میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ان معنوں میں جب تک انسان HOMO SAPIEN میں شمار ہوتا ہے تب تک انہی جینیاتی خواص کا حامل رہے گا جو اس کے قدیم آبا ؤ اجداد میں پائے جاتے تھے۔پس اس نا قابل تغیر عالمگیر فطرت انسانی سے تعلق رکھنے والی مذہبی تعلیمات بھی نا قابل تغیر ٹھہرتی ہیں۔لہذا گزشتہ مذاہب اگر چہ تبدیل تو نہیں ہوئے لیکن ضروریاتِ زمانہ کے مطابق ان میں جزوی