عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 85
اسلام مذهبی تعلیمات کا منتهی 85 جس کا عالمگیر کردار واضح اور نمایاں ہے۔بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ایسی ہمہ گیر شخصیت کی حامل ہے جو بلا تمیز شرق و غرب سارے کرہ ارض کو بقعہ نور بنا رہی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات قرآنی تعلیمات کی مظہر کامل دکھائی دیتی ہے اور ان دونوں میں کامل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔چنانچہ جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی بابت استفسار کیا گیا تو آپ نے مختصر مگر نہایت جامع جواب دیا: كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو مجسم قرآن تھے۔(8) جملہ اسلامی تعلیمات ہر پہلو کے اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کے مطابق ہیں۔جس طرح اسلامی تعلیمات میں ایک حسین توازن پایا جاتا ہے اور وہ اصول عدل ، احسان اور ایتاً ء ذی القربی پرمبنی ہے بالکل اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔راه اعتدال: اسی طرح امت محمدیہ کی بحیثیت ایک قوم کے جو فطرت ہے وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے عین مطابق ہے جیسا کہ فرمایا: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (البقرة 144:2) ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تمہیں وسطی امت بنادیا تا کہ تم لوگوں پر نگران ہو جاؤ اور رسول تم پر نگران ہو جائے۔جس طرح بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب ہر قسم کی کبھی اور جانبداری سے پاک اور درمیانی راہ پر قائم ہیں اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بھی درمیانی راہ پر قائم اور افراط و تفریط سے پاک ہے۔چنانچہ انتہا پسندی کی تبلیغ اور تقلید کرنے والے نام نہاد اسلامی فرقوں کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔عربی لفظ وَسُط “ کے معانی میں درمیانی رستہ کے علاوہ بہترین ہونے کا مفہوم بھی شامل ہے۔چنانچہ جب کسی انسان کیلئے لفظ وسط “ استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ