عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 79
79 مذهب کی تشکیل میں تین تخلیقی اصولوں کا کردار شریعت میں عدل اور انتقام کا اصول ہی کارفرما ہے۔جیسا کہ ہم بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ عضو کی شرط لفظ " احسان میں شامل ہے۔چنانچہ احسان کو بکلی نظر انداز نہ کرنے کے باوجود موسوی شریعت میں اسے وہ اہمیت حاصل نہیں جو سیحی تعلیمات میں دی گئی ہے۔اس حقیقت کے باوجود کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے اس الزام کو کلیۂ رد فرمایا ہے کہ آپ موسوی شریعت کو تبدیل کرنے آئے ہیں ( متی 17:5 و18 ) آپ علیہ السلام نے موسوی شریعت کے ایک حکم یعنی انتقام کی بجائے دوسرے حکم یعنی عفو و در گزر پر زور دیا۔لیکن جب آخری صاحب شریعت نبی حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت مذہبی ارتقا اپنے کمال کو پہنچ گیا تو انتہائی ترقی یافتہ ، جامع اور متوازن تعلیم دی گئی جو عدل ، احسان اور ایتا عوذی القربی کے مابین حسین توازن کو مضبوطی سے قائم کرتی ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر کی طرف واپس آئیں تو عدل کی تعلیمات کے متعلق بہت سے سوالات حل طلب ہیں۔قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکالنا چنداں مشکل نہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں فی الحقیقت عدل اور انصاف بالکل اٹھ چکا تھا اور ہر شعبہ زندگی میں ظلم وستم کا دور دورہ تھا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ظالم قوم کو احسان کی تعلیم کے پیش نظر معاف کیا جاسکتا ہے؟ یا عدل کا تقاضا ہے کہ ہر ظالم کو اس کے گناہوں کی سزادی جائے۔یہ دوا ہم سوال سیر حاصل بحث کے متقاضی ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے مسلسل آپ علیہ السلام کے ساتھ تمسخر کیا، آپ علیہ السلام کی تعلیمات کے انکار پر مصر رہے اور آپ علیہ السلام کے مشن کونا کام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ان سب باتوں کے باوجود خدا کو یہ علم تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کیلئے رحم کی دعا کریں گے۔چنانچہ پیشتر اس کے کہ ان کی تباہی کی گھڑی آن پہنچتی ،اللہ تعالیٰ نے یہ بتا کر کہ اس قوم کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی، حضرت نوح علیہ السلام کو ان کیلئے بخشش کی دعامانگنے سے منع فرما دیا۔اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے ان کے حق میں دعا کی بجائے بددعا کی جس میں بلا استثناء تمام منکرین شامل تھے۔حتی کہ وہ یہ بھی نہ جانتے تھے کہ بدقسمتی سے ان کا حقیقی بیٹا بھی اس بددعا کا شکار ہو جائے گا۔یہ انکشاف ان پر اس وقت ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ خود ان کا بیٹا بھی غرق ہونے کو ہے۔تب وہ حیرت سے پکار اٹھے : ” میرا بیٹا! میرا بیٹا! میرا خون! میرا خون!“۔دراصل یہ خدا تعالی کا فیصلہ تھا کہ ایک ایسی مثال قائم کی جائے جس سے یہ الہی فیصلہ عبرت