عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 78
78 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول ہے تاہم قرآن کریم نے غیر ضروری تفاصیل کو چھوڑتے ہوئے ان کی تعلیمات کا صرف عمومی رنگ میں ذکر فرمایا ہے۔حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت اسماعیل علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام اس شریعت کے تابع تھے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی۔چنانچہ ان کے مذہب کا مرکزی نقطہ مکمل وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور سنت ابرا ہیمی علیہ السلام کی پیروی نیز ان کی لائی ہوئی تعلیمات پر عمل قرار پایا۔”ملت“ کے لفظ میں یہ مفہوم پوری طرح شامل ہے تاہم ان تعلیمات کی تفصیل یہاں بیان نہیں ہوئی۔لیکن قرآن کریم سے قبل ظاہر ہونے والی تمام شرائع پر ہمیشہ یہ رہنما اصول اطلاق پاتا ہے کہ خدا تعالیٰ لوگوں پر ہمیشہ ان کی استطاعت کے مطابق ہی بوجھ ڈالا کرتا ہے۔یعنی وہ ہمیشہ لوگوں کی ضروریات اور ان کے اقتصادی، معاشرتی اور اخلاقی ماحول کے مناسب حال اعمال کا ہی مکلف ٹھہرایا کرتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ تک یہی سلسلہ جاری رہا لیکن موسوی شریعت پہلے انبیاء کی شریعت کی نسبت زیادہ تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔اس شریعت کے بعض احکام کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن کریم حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانہ میں غذا سے متعلق ہدایات پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد پہلوؤں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مثیل قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح عہد نامہ قدیم (استثناء 18:18) میں مذکور مماثلت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مستقبل میں مبعوث ہونے والے ایک نبی کی خبر دی گئی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ اس کے بھائیوں میں سے اور اس کی مانند ہوگا۔قرآن کریم میں موسوی شریعت کا اتنا تفصیلی ذکر کیوں ہے جبکہ حضرت نوح علیہ السلام جیسے عظیم الشان صاحب شریعت نبی کی تعلیمات کے متعلق وہ بالکل خاموش ہے؟ اس سوال کے جواب میں یادرکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کے مطابق محمدی شریعت کا براہ راست موسوی شریعت سے موازنہ کیا جاسکتا ہے۔دونوں انبیاء میں مماثلت پائی جاتی ہے۔لیکن چونکہ قرآنی شریعت اکمل ترین ہونے کی دعویدار ہے لہذا جہاں کہیں بھی ان دونوں میں اختلاف دکھائی دیتا ہے، وہیں اس دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے۔چنانچہ دیگر وجوہات کے علاوہ موسوی شریعت کی اہم تعلیمات کو محفوظ رکھنے کی ایک وجہ یہ باہمی موازنہ بھی ہے۔چنانچہ مذہب کے ارتقا میں یہ بہت ہی اہم سنگ میل ہے جس کی تشکیل خاص منشائے الہی کے تحت ہوئی ہے۔موسوی شریعت میں عدل پر بہت زور دیا گیا ہے۔عفو کا ذکر بھی ملتا تو ہے لیکن استثنائی اور محض ایک متبادل کے طور پر جبکہ عمومی قاعدے کے طور پر موسوی