عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 257

رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم صلہ رحمی ، رحم اور رحمانیت کا باہم تعلق : 257 آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحم کو بزبان حال مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو تجھ سے ملے گا، اسے میں ملوں گا اور جو تجھ سے تعلق توڑیگا، اس سے میں قطع تعلق کرونگا۔(77) عربی میں عورت کی uterus کا نام رحم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے زیادہ مخلوق سے تعلق رکھنے والی صفت رحمانیت کو بھی لفظ رحم سے مشتق قرار دیا گویا دونوں کا اصل ایک ہی ہے۔آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ رحم رحمان سے ملی ہوئی ایک شاخ ہے۔پس ہم جب محمد رسول اللہ ﷺ کو سب نبیوں سے افضل کہتے ہیں تو اس بناء پر کہتے ہیں کہ آپ کی تعلیم دیگر تمام نبوں کی تعلیم سے افضل ہے اوراس تعلیم کی یہ برتری ناقابل تردید دلائل سے ثابت کی جاسکتی ہے۔اس خطاب میں میں نے جو کچھ بھی بیان کیا ہے وہ سب کچھ قرآن کریم کی ایک مختصرسی آیت پر مبنی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ ابْتَائِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَرُونَ (النحل 91:16) ترجمہ: یقیناً اللہ عدل کا احسان کا اور اقرباء پر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم عبرت حاصل کرو۔دراصل یہ آیت کریمہ میرے ان خطابات کے سلسلہ کا عنوان ہے جو میں نے اسلام کا نظام عدل ، احسان اور ایتا و ذی القربی“ کے موضوع پر کئے ہیں۔میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ اس مختصر سی آیت قرآن میں مضمر لا متناہی مطالب کو اجاگر کر سکوں لیکن میں نے جتنا زیادہ ان مطالب کی گہرائیوں میں جانے کی کوشش کی ، اتنا ہی زیادہ اپنے آپ کو لا چار پایا کہ ان تمام نوادرات کو اکٹھا کرسکوں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام احباب کو جنہوں نے ان خطابات کے مواد کو اکٹھا کرنے میں میری مدد کی ہے ، جزائے خیر عطا فرمائے ، نہ صرف اس دنیا میں بلکہ اس دنیا میں بھی۔آمین۔