عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 4

4 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول اطاعت گزاری میں لمحہ بھر کو بھی تر درد نہیں کریں گے بلکہ کامل فرمانبرداری سے دیوانہ وار دوڑتے ہوئے آئیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا یہی طرۂ امتیاز ہے۔تاہم غریبوں، کمزوروں اور لا چاروں کا خیال کر کے دل ایسا حکم دینے پر آمادہ نہیں ہوتا لیکن جہاں تک جماعت احمدیہ کی قربانیوں کا تعلق ہے تو اس کا اظہار آج ایک دوست نے ایک ہی فقرے میں یوں کیا کہ یہ تو ایسی جماعت ہے جس کے اخلاص اور قربانی کی روح سے ڈر لگتا ہے۔حیرت انگیز اخلاص ہے۔“ ہم ان لوگوں میں سے تو ہر گز نہیں جن کے متعلق یہ لطیفہ مشہور ہے کہ کسی جگہ سکھوں کی ایک ٹولی کا گڈا کیچڑ میں پھنس گیا۔انہوں نے ست سری اکال کے نعرے لگائے اور اپنے گروؤں کے نام بھی لئے لیکن وہ گڈ انکل نہ سکا۔اتفاق سے مسلمانوں کی ایک ٹولی گزر رہی تھی۔اس نے بھی دھکا لگایا اور ساتھ یا علی“ کا نعرہ بھی بلند کیا ، اس وقت تک چونکہ اور لوگ بھی دھکا لگانے میں شامل ہو گئے تھے اس لئے گڈ انکل آیا۔اس پر سکھ بہت پریشان ہوئے کہ مسلمانوں کے گرو کو زیادہ طاقتور سمجھا جائے گا۔لیکن مسلمانوں کے گرو کو صاف صاف خراج تحسین پیش کرنا بھی ان کے اپنے مذہبی جذبات پر گراں تھا اس لئے انہوں نے یہ مشکل اس طرح حل کی کہ بجائے یہ اعتراف کرنے کے کہ مسلمانوں کا گرو ہمارے گرو سے طاقتور نکلا، یہ کہ دیا کہ ہے تو ہمارا گر وہی طاقتور لیکن مسلمانوں کا گر وکھو بے کانگڑا ہے۔( یعنی گارے اور کیچڑ کا جہاں تک معاملہ ہے اس کے لحاظ سے ہمارے گرو پر مسلمانوں کا گر و فوقیت لے گیا ہے۔مترجم) ہم ایسے کسی گرو کے مرید تو نہیں ہیں جس کی طاقت کا دائرہ محدود ہے بلکہ اس گرو کے مرید ہیں جو ہر حال میں، ہر مشکل میں اپنی قوت میں بے مثال اور ہر چیز پر ایک نمایاں فوقیت اور امتیازی شان رکھتا ہے۔وہ ہمیں اندھیرے سے نکال کر نور کی طرف نکال کر لے جاتا ہے۔اس کے ماننے والے کسی حال میں ظلمات سے مرعوب اور مغلوب نہیں ہوتے بلکہ ہر حالت میں قدم آگے بڑھاتے ہیں اور ایسے نہیں کہ جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے: وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا ( البقرة 21:2) ترجمہ: اور جب وہ ان پر اندھیرا کر دیتی ہے تو ٹھہر جاتے ہیں۔اس کے برعکس وہ تو اندھیروں میں بھی چلنا جانتے ہیں اور روشنیاں ہوں تب بھی چلنا جانتے ہیں، بارش ہو یا سخت دھوپ تب بھی قدم آگے ہی بڑھاتے ہیں۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے میرا دل پہلے سے بھی زیادہ حمد باری تعالیٰ سے لبریز ہو گیا۔