عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 130 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 130

130 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم یہ وہ مرتبہ ہے جس میں تمام اغراض نفسانی جل جاتے ہیں اور دل ایسا محبت سے بھر جاتا ہے جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے کہ ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاء * مَرْضَاتِ اللهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ یعنی بعض مومن لوگوں میں سے وہ بھی ہیں کہ اپنی جانیں رضائے الہی کے عوض بیچ دیتے ہیں اور خدا ایسوں ہی پر مہربان ہے۔66 (24) بالفاظ دیگر ایسے لوگ کسی مخفی محرک کے تابع اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کر رہے ہوتے۔وہ کسی صلے اور اجر کے طالب نہیں ہوتے۔یعنی انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کو اچھے اعمال کا بدلہ ملتا ہے یا نہیں۔اگر کوئی شخص محض اللہ کوئی نیکی بجالاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس پر کرم نوازی فرماتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو بات بیان فرما ر ہے ہیں وہ محنت اور صلے کے اس فلسفے سے بہت بالا ہے۔اس اعلیٰ مقام پر فائز لوگ محض جنت کمانے کیلئے اچھے اعمال بجا نہیں لاتے بلکہ وہ تو صرف اور صرف رضائے باری تعالیٰ کے حصول کی خاطر ایسا کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی رضا انہیں دل و جان سے بھی پیاری ہوتی ہے اور اسے خوش کرنا ہی دراصل ان کی جنت اور ان کی زندگیوں کا واحد مقصد ٹھہرتا ہے۔الغرض اسلامی نظام عبادت حیرت انگیز طور پر بےحد متوازن اور مکمل ہے جس کی تمام باریک تفاصیل پر عدل، احسان اور ایتا و ذی القربی کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان تھے اور کسی انسان کیلئے ممکن نہیں تھا کہ وہ قرآن کریم جیسا بے نظیر معجزہ لائے۔یہ لازماً ایک علیم وخبیر اور قادر مطلق خدا کا ہی کام تھا۔ہم عبادت کی روح پر بحث کر چکے ہیں۔اب ہم کچھ ایسے نظر آنے والے ستونوں کی بات کرتے ہیں جن کے سہارے عبادت قائم ہوتی ہے اور اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا یہاں بھی عدل، احسان اور ایتا عذی القربی کوئی اہم کردار ادا کر رہے ہیں؟ عدل نے اسلامی عبادات کے تمام بنیادی پہلوؤں کا احاطہ کر رکھا ہے۔نمازیں مساجد اور گھروں میں باجماعت اور اکیلے اکیلے ادا کی جاتی ہیں۔اگر اسلام نے صرف باجماعت نماز کا ہی حکم دیا ہوتا تو لوگوں کی اکثریت آہستہ آہستہ نماز کی ادائیگی چھوڑ بیٹھتی۔اگر اسلام نے باجماعت نماز کا