ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 48
ب المسيح 48 بعد از خدا بعشق محمد مخترم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم خدا کے بعد میں محمد کے عشق میں سرشار ہوں۔اگر یہی کفر ہے تو بخدا میں سخت کافر ہوں جانم فدا شود بره دین مصطفے این است کام دل اگر آید میترم! میری جان مصطفے کے دین کی راہ میں فدا ہو۔یہی میرے دل کا مدعا ہے کاش میسر آجائے اس مقام تک جو بیان ہو چکا ہے وہ اس طرح سے ہے کہ حضرت اقدس کے موضوعات کلام خالصہ اور کلیۂ خدا تعالیٰ کے حکم اور منشاء کے مطابق ہیں اور یہ کہ صرف حضرت اقدس ہی نہیں بلکہ تمام مرسلین باری تعالیٰ کے موضوعات کلام اسی محور کے گرد گھومتے ہیں اور کیونکہ خدا تعالیٰ کا منشاء کامل اور آخری اظہار قرآن کریم ہے اس لیے قرآن کریم کے فرمودات کو بھی پیش کر دیا گیا ہے۔جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ آپ حضرت کے بنیادی موضوعات شعری چار ہیں۔(۱) محبت الہی۔(۲) عشق رسول (۳) ابلاغ رسالت (۴) مناجات یہ آپ کے کلام کے سرخیل ہیں اول تو یہ کہ آپ نے تینوں زبانوں میں ان موضوعات پر کثرت سے کلام کیا ہے۔اور دوسرے یہ کہ اگر یہ موضوعات نہ بھی ہوں تو کسی نہ کسی طور سے آپ کے کلام میں یہ عنوانات شعر نقاب کشا ہو جاتے ہیں۔آپ کے کلام کی یہ ایک دلفریب ادا ہے۔محبت الہی۔عشق رسول۔ابلاغ رسالت اور مناجات کی آپ سے کچھ ایسی وابستگی ہے کہ موضوع کوئی بھی ہو یہ عنوانات شعر چہرہ نما ہو جاتے ہیں۔کسی نے بہت خوب کہا ہے:۔ماطفل كم سواد سبق قصہ ہائے دوست صد بار خوانده و دگر از سر گرفته ایم ترجمہ:۔ہم ایسے کم ہنر شاگرد ہیں کہ دوست کی کہانی سو بار پڑھنے کے باوجود اس کو پھر سے شروع کر دیتے ہیں۔( کم سواؤ سے مراد عاشق زار ہے کہ محبوب کا ذکر بار بار کرنا چاہتا ہے) مگران اشعار سے بہت بہتر اور واضح حضرت اقدس کا شعر ہے فرماتے ہیں۔عاشق زار ہمہ گفتار در سخن خود کشد بجانب یار ترجمہ:۔عاشق زار اپنی ہر گفتگو کو محبوب کے ذکر کی طرف پھیر لیتا ہے۔بات حضرت اقدس کے بنیادی موضوعات شعری کی ہورہی تھی کہ ان موضوعات پر حضرت کے سرمایہ شعری کی اساس ہے۔مگر اس سے یہ اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ آپ حضرت کے دیگر موضوعات شعر کم اہمیت