ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 235
235 ادب المسيح دوسرے نمبر کی ثنا بھی اوّل ثنائیہ نظم کے تمام محاسن اور ادبی عظمت اور شان رکھتی ہے ایسا ہونا لا زم بھی تھا کیونکہ دونوں میں محبوب مشترک ہے اور اس کا حسن و جمال بھی مشترک۔تا ہم اول نظم میں ایک عاشقانہ ترنگ ہے ایک نعرہ مستانہ ہے۔عشق کے جذبے کی بے ساختہ اور بے قابو نمود ہے۔دوسری نظم بھی ان تمام خوبیوں کی حامل ہے۔باری تعالیٰ کی عظمت کا اظہار بھی ہے۔اپنے عشق کا بیان بھی ہے مگر بیان باوقار اور سنجیدہ ہے۔اسلوب عالمانہ ہے۔”اے دل بر و دلستاں و دلدار سے لے کر ہر سوز عجائب تو شورے تک باری تعالیٰ کی ذات وصفات کی عظمت کا بیان ہے اور بہت ہی عالمانہ اور باوقار انداز سے ہے اور آخری اشعار میں بے انتہا خوبی اور ادیبانہ انداز میں اپنے عشق کا اظہار ہے۔دوبارہ سُن لیں۔از یاد تو نو رہا بینم نہ در حلقه عاشقان خونبار چشم و سر ما فدائے رویت جان و دل ما بتو گرفتار عشق تو به نقد جاں خریدیم تادم زند دگر خریدار در يُرج دلم نماند دیار غیر از تو کہ سرزدے ز جیبــــــم فارسی ادب میں حمد وثنا کا موضوع سخن بہت عام ہے۔سعدی۔جاتی۔اور سنائی اس صنف شعر کے اساتذہ سمجھے جاتے ہیں۔آپ ان کے دواوین کی چھان بین کر لیں۔آپ حضرات ان دو ادبی شاہکاروں کے مقابل تو کیا ان کے قریب سے بھی نہیں گذرتے۔ایسا ہونا ضروری بھی تھا کیونکہ حمد وثنا کا سو تا عشق ومحبت سے پھوٹتا ہے اور آپ حضرت سے بڑھ کر عاشق الہی کون ہوگا اور کون یہ کہہ سکے گا۔عشق تو به نقد جاں خریدیم تادم نه زند دگر خریدار یعنی میں نے تیرا عشق اپنی جان قربان کر کے خریدا ہے تاکہ کوئی اور خریدار میرے مقابل پر نہ آسکے۔