ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 208
المسيح 208 اُس کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) قرآن کے فرمودات کے مطابق حضرت اقدس نے ثناء باری تعالیٰ کے معنوں کو لامتناہی وسعتوں سے ہمکنار کر دیا ہے۔اور کائنات کے ہر ذرہ کو اس کے قانونِ قدرت کی اطاعت سے سرِ مو انحراف نہ کر سکنے کو اس کی شاء کرنے اور اس کی کبریائی کو قبول کرنے کے مترادف قرار دیا ہے اور ایسا ہی لازم بھی تھا کیونکہ جس طور سے اس کی لامتناہی عنایات ہیں ویسے ہی اس کی ثناء بھی لامتناہی ہوگی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو بہت مقامات میں بیان کیا ہے۔سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الحديد :2) سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الحشر :2) سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الصف:2) فارسی زبان میں حضرت اقدس باری تعالیٰ کی اس اصولی اور آفاقی ثناء کے بیان میں بہت ہی خوبصورتی اور محبت سے عرض کرتے ہیں۔حمد و شکر آں خدائے کردگار کز وجودش ہر وجودے آشکار خدائے کردگار کی حمد اور شکر واجب ہے جس کے وجود سے ہر چیز کا وجود ظاہر ہوا ایں جہاں آئینہ دار روئے اُو ذره ذره ره نماید سوئے اُو جہان اس کے چہرے کے لیے آئینہ کی طرح ہے۔ذرہ ذرہ اُسی کی طرف راستہ دکھاتا ہے کرد در آئینه ارض و سما آں رُخ بے مثل خود جلوہ نما اس نے زمین و آسمان کے آئینہ میں اپنا بے مثل چہرہ دکھلا دیا ہر گیا ہے عارف بنگاه او دست ہر شاخ نماید راه او اس کا ہر پتہ اس کے کون و مکان کی معرفت رکھتا ہے اور درختوں کی ہر شاخ اُسی کا راستہ دکھاتی ہے نُورِ مهر و مه ز فیض نُور اوست ہر ظہورے تابع منشور اوست چاند اور سورج کی روشنی اُسی کے نور کا فیضان ہے ہر چیز کا ظہور اسی کے شاہی فرمان کے ماتحت ہوتا ہے ہر سرے سرے ز خلوت گاہ او ہر قدم جوید در با جاه أو ہر سر اُس کے اسرار خانہ کا ایک بھید ہے اور ہر قدم اُسی کا باعظمت دروازہ تلاش کرتا ہے