ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 144 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 144

المسيح 144 آپ حضرت اپنے صدق دعوی کے بیان میں فرماتے ہیں۔فَإِنْ أَكُ صِدِّيقًا فَرَبِّي يُعِزُّنِيْ وَ إِنْ اكُ كَذَّابًا فَسَوْفَ أَحَقَّرُ ترجمہ: سواگر میں سچا ہوں تو میرا رب مجھے عزت دے گا اور اگر میں جھوٹا ہوں تو ضرور بے عزت کیا جاؤں گا۔(۷) قرآن کریم مومنوں کی مدد کے بیان میں فرماتا ہے: ذلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ امَنُوا وَانَّ الْكَفِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ (محمد: 12) ترجمہ: یہ اس لیے کہ اللہ مومنوں کا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں۔آپ حضرت قرآن ہی کے الفاظ میں اس مضمون کا بیان کرتے ہیں۔وَإِنَّ لَنَا الْمَوْلَى وَلَا مَوْلَى لَكُمْ فَتَنْظُرُ أَنَّا نَغْلِبَنَّ وَتُنْصَرُ ترجمہ: اور ہمارا تو ایک مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔سو تو دیکھ لے گا کہ ہم ضرور غالب آئیں گے اور مدد دئیے جائیں گے۔(۸) قرآن کریم انسان کی عذر خواہی کے بیان میں فرماتا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيْرَةٌ ، وَلَوْ انْقَى مَعَاذِيْرَهُ (القيمة: 16-15) ترجمہ: انسان اپنے نفس کو خوب جانتا ہے خواہ وہ اپنے عذر پیش کرے۔آپ حضرت عیسائیوں کی فریب کاریوں کے بیان میں فرماتے ہیں: وَ مِنْ تَلْبِيْسِهِمْ قَدْ حَرَّفُوا الْأَلْفَاظَ تَفْسِيرًا وَ قَدْ بَانَتْ ضَلَالَتُهُمْ وَ لَوْ الْقُوا الْمَعَاذِيرَا ترجمہ: اور ان کی ایک تلبیس یہ ہے کہ تفسیر میں الفاظ کی تحریف کرتے ہیں اور اُن کی گمراہی ظاہر ہو چکی اگر چہ اب عذر پیش کریں۔(۹) قرآن کریم انسان سے مواخذہ کرنے کے بیان میں فرماتا ہے۔ذَرْنِي وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا (المدثر : 12) ترجمہ: مجھے اور میں نے جس کو پیدا کیا ہے اکیلا چھوڑ دے۔آپ حضرت مکذبین کو کہتے ہیں کہ آپ کا معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔فرماتے ہیں: فَذَرُنِي وَ خَلاقِي وَ لَسْتَ مُصَيْطِرًا عَلَيَّ وَلَا حَكَمْ وَقَاضٍ فَتَأْمُرُ ترجمہ: مجھ کو چھوڑ دے میرے ربّ کے حوالہ کر تو مجھ پر داروغہ نہیں کہ حکم چلاتا ہے فیصلے کرتا ہے نہ ثالث عادل ہے۔