ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 142
المسيح 142 اس وضاحت کے بعد ہم اس مقام پر پہنچے ہیں کہ یہ جائزہ لیں کہ حضرت اقدس کا کلام کس قدر عاشقانہ انداز میں قرآن کریم کے اسلوب بیان کا اتباع کر رہا ہے۔یہ حقیقت تو واضح ہے کہ حضرت اقدس کا عربی ادب بیش سے بیش تر نثر میں تخلیق ہوا ہے اور آپ کی عربی نثر ہی حقیقت میں اس کامل اتباع کو پیش کر سکتی ہے جو آپ حضرت نے قرآن کریم کا کیا ہے۔خاکسار کے مشاہدے کے مطابق آپ کی نثر میں کوئی فقرہ ایسا نہ ہو گا جس میں لسانی یا علمی اعتبار سے کوئی نہ کوئی جھلک قرآنی نور کی قلب و نظر کو بے تاب نہ کر رہی ہومگر کیونکہ ہم آپ حضرت کے ادب کی اس خدمت میں صرف آپ کا شعری کلام پیش کر رہے ہیں اس لیے آپ کے شعری کلام کی ان گنت امثال میں سے چند ایک اتباع قرآنِ کریم کے اثبات میں پیش کرتے ہیں۔(۱) قرآن کریم فرماتا ہے: وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الأَنْهرُ۔۔۔۔۔الى الآخر (البقرة: 75) ترجمہ: اور بعض پتھر ایسے ہیں کہ جن سے نہریں بہتی ہیں۔آپ حضرت انقطاع الی اللہ کے بعد اپنے قلب کا عرفان الہی سے لبریز ہونے کو بیان کرتے ہیں۔حفَرْتُ جِبَالَ النَّفْسِ مِنْ قُوَّةِ الْعُلَى فَصَارَ فُؤَادِي مِثْلَ نَهْرٍ يُفَجَّرُ ترجمہ: میں نے خدا داد طاقت سے نفس کے پہاڑوں کو کھودا ہے پس میرا دل نہر کی طرح ہو گیا ہے جو جاری کی جاتی ہے۔(۲) قرآن کریم فرماتا ہے۔فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنْبُوا مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (الانعام: 6) ترجمہ: انہوں نے تکذیب کی حق کی جب وہ ان کے پاس آیا عنقریب انکو خبریں ملینگی جسکی وہ تکذیب کرتے تھے۔حضرت فرماتے ہیں: فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَ هُمُ فَسَوْفَ يُرِيْهِمْ رَبُّنَا مَا كَذَّبُوا ترجمہ: انہوں نے سچ کو جھٹلا دیا ہے جب وہ ان کے پاس آیا سوضرور انہیں دکھا دے گا ہمارا رب کہ انہوں نے کس چیز کو جھٹلایا ہے۔(۳) قرآن کریم حضرت عیسی علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کے انکار میں فرماتا ہے